اعرابیہ کی آپ پر نظرپڑی آپ کا حسن جمال دیکھا تو برقع و دستانے پہنے نیچے اتر آئی اور آپ کے سامنے آکر چہرے سے پردہ ہٹایا تو یوں لگا جیسے چاند کا ٹکرا ہو، اس نے کہا: ’’آپ مجھے کچھ ہبہ کریں۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سمجھا شاید کھانا وغیرہ مانگ رہی۔ چنانچہ، آپ دسترخوان کی طرف بڑھے تاکہ اسے کچھ دیں۔ اعرابیہ نے کہا: ’’مجھے کھانا وغیرہ نہیں چاہئے میں تو چاہتی ہوں کہ اپنا نفس مجھے ہبہ کردیں۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’تجھے شیطان نے تیار کرکے میری طرف بھیجا ہے۔‘‘ یہ کہا اور سر آستینوں میں چھپا کر گریہ وزاری شروع کردی، جب عورت نے یہ دیکھا تو برقع چہرے پر ڈالااور خاموشی سے جلدی جلدی اپنے خیمہ کی طرف لوٹ گئی۔ اتنے میں رفیق بھی مطلوبہ سامان خرید کر واپس آ گیا، رونے کے سبب اس نے آپ کی سوجی ہوئی آنکھیں دیکھیں تو رونے کی وجہ پوچھی، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’کچھ نہیں بس بچے یاد آگئے تھے۔‘‘ رفیق نے کہا: ’’نہیں ضرور آپ کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آیا ہے کیونکہ بچوں سے جدا ہوئے آپ کو تقریباً تین دن ہی ہوئے ہیں۔ دوست کے زیادہ اصرار کرنے پر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اعرابیہ کا واقعہ بیان کردیا۔ رفیق نے دسترخوان لگایا اور زارو قطار رونا شروع کردیا۔ حضرت سیِّدُنا سلیمان بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار نے پوچھا: ’’تم کیوں رو رہے ہو؟‘‘ کہا: ’’آپ کی بنسبت رونے کا میں زیادہ حقدار ہوں کیونکہ اگر آپ کی جگہ میں ہوتا تو شاید صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا۔‘‘
راوی بیان کرتے ہیں کہ دونوں مسلسل روتے رہے۔ جب حضرتِ سیِّدُنا سلیمان بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار مکہ مکرمہ زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفاً وَّتَعْظِیْمًا پہنچے ، طواف وسعی وغیرہ سے فارغ ہوکر حجراسود کے پاس آئے اور احتبا کرکے بیٹھ گئے، اسی اثنا میں آنکھ لگ گئی، خواب میں ایک انتہائی خوبصورت، حسین و جمیل، قدآور اور خوشبو سے مہکتے شخص کی زیارت ہوئی۔ پوچھا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے! آپ کون ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’میں یوسف بن یعقوب ہوں۔‘‘ عرض کی: ’’کیا حضرت سیِّدُنا یوسف صدیق عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام؟‘‘ فرمایا: ’’ہاں!‘‘ عرض کی: ’’آپ اور عزیز مصر کی بیوی کے معاملہ کی بھی عجیب شان ہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: ’’تمہارا اور مقام ابواء کی اعرابیہ کا معاملہ اس سے بھی عجیب ہے۔‘‘ (۱)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء علوم الدین، کتاب کسر الشہوتین، ج۳، ص۱۳۰۔