ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک روئے زمین پر شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ناحق قتل کرنا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ! بے شک زمین اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں فریاد کرتی اور اجازت طلب کرتی ہے تاکہ قتل جیسا گھناؤنا عمل کرنے والے کو اپنے اندر دھنسادے۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا سلیمان بن یسار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار
حضرتِ سیِّدُنا ابوایوب سلیمان بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عبادت گزار اور ہرقسم کے فتنہ فساد اور فسق وفجور سے کنارہ کش تھے۔
گناہ سے باز رہے:
(1993)…حضرتِ سیِّدُنا مصعب بن عثمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا سلیمان بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار بہت خوبصورت تھے۔ ایک بار کسی عورت نے انہیں بد کاری پر اکسانا چاہا لیکن آپ نے انکار کردیا، عورت نے کہا: ’’تھوڑے میرے قریب ہوجائیے۔‘‘ لیکن آپ وہاں سے بھاگ گئے۔ حضرتِ سیِّدُنا سلیمان بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد میں خواب میں حضرتِ سیِّدُنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زیارت سے مشرف ہوا توان سے عرض کی: ’’کیا آپ ہی حضرت سیِّدُنایوسف عَلَیْہِ السَّلَام ہیں؟‘‘ فرمایا : ’’ہاں! میں ہی یوسف ہوں جس کا عورت نے ارادہ کیا اور تو وہ ہی سلیمان ہے جو ارادے سے محفوظ رہا۔‘‘ (۲)
(1994)…حضرتِ سیِّدُنا ابوحازم عَلَیْہِ رَحْمُۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا سلیمان بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفاً وَّتَعْظِیْمًا کی جانب سفر کے ارادے سے نکلے، ایک رفیق بھی ساتھ تھا۔ جب مقام ابواء پر پڑاؤ کیا، تو ساتھی کھانا لینے کے لئے بازار کی طرف چل دیا، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خیمہ میں ہی تشریف فرما رہے۔ آپ بہت خوبصورت اور متقی و پرہیزگار تھے۔ کچھ فاصلے پر پہاڑ پر موجود خیمہ میں سے ایک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…التذکرۃ باحوال الموتی وامور الآخرۃ، باب ماجاء فی قتل المؤمن والاعانۃ علی ذلک، ص۴۹۸۔
2… صفۃ الصفوۃ، الرقم:۱۶۰، سلیمان بن یسار ، ج۲، ص۵۸۔