Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
299 - 603
عَنْہَا فرماتی ہیں کہ جب میرے سرتاج، صاحب ِ معراج صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ کے آخری کلمات جو میں نے سنے یہ تھے: ’’(یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!) بلکہ جنت میں رفیق اعلیٰ کا ساتھ (اختیار کیا)۔‘‘ میں نے کہا: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اختیار دیا گیا ہے تو آپ ہمیں ترجیح نہیں دیں گے اور میں جان گئی کہ یہ وہی ہے جو آپ فرمایا کرتے تھے کہ ’’بے شک کسی نبی کی روح قبض کرنے سے پہلے اسے اختیار دیا جاتا ہے۔‘‘(۱)
حضرت سیِّدُنا خارِجَہ بن زید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
	فقیہ ابن فقیہ حضرت سیِّدُنا خارجہ بن زید بن ثابت انصاری عَلَیْہِ رَحْمُۃُ اللّٰہِ الْبَارِی بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ ان مقبول بارگاہ حق میں سے ہیں کہ جنہوں نے فقہ میں مہارت حاصل کی لیکن پھر بھی تنہائی اختیار کرنے کو ترجیح دی، ان کا کلام زیادہ عام نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان سے زیادہ تر احادیث قضا واحکام کے بارے میں مروی ہیں۔
سیِّدُنا خارِجَہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے مروی احادیث
(1991)…حضرتِ سیِّدُنا خارجہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد حضرتِ سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حبیب، حبیب لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک یہ مال خوش نما خوش ذائقہ ہے۔‘‘  (۲)
زمین کی فریاد:
(1992)…حضرتِ سیِّدُنا خارجہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں وعظ ونصیحت کرتے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سے اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہیں تو دنیا ہی میں رہیں چاہیں تو ہمارے پاس آجاویں جو کہتے ہیں کہ نبی ہماری طرح ہوتے ہیں وہ اس حدیث میں غور کریں۔ وہ حضرات زندگی و موت اور ان کے ہرشعبہ میں دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں۔ (رفیق اعلیٰ) سے مراد یا تو جماعت ملائکہ ہے یا جماعت انبیاء کرام (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) یا رب تعالیٰ کی ذات۔ حدیث شریف میں ہے: اَللّٰہُ رَفِیْق یُحِبُّ الرِّفْق یا اس سے مراد ہے جنت کیونکہ وہ رفق یعنی نرمی کی جگہ ہے۔
1…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند سیدۃ عائشۃ، الحدیث:۲۶۴۰۶، ج۱۰، ص۱۴۳۔
2…المعجم الکبیر، الحدیث:۴۸۷۲، ج۵، ص۱۳۷۔