سیِّدُنا عُبَیْدُاللّہ بن عُتْبَہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
سے مروی اَحادیث
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کثیر احادیث مروی ہیں۔ زیادہ تر مرویات حقارت دنیا اور زہد اختیار کرنے کے متعلق مصطفیٰ جان رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو دی جانے والی تعلیمات پر مشتمل ہیں۔
مردہ بکری سے بھی زیادہ حقیر:
(1988)…حضرتِ سیِّدُنا عبیداللّٰہ بن عتبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سردارِ دوجہان، محبوب رحمن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک مردہ بکری کے پاس سے گزرے تو ارشاد فرمایا: ’’دنیا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک اس مردہ بکری سے بھی زیادہ حقیر ہے۔‘‘ (۱)
(1989)…حضرتِ سیِّدُنا عبیداللّٰہ بن عتبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ تاجدارِ انبیا، محبوب کبریا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اگر میرے پاس احد پہاڑ برابر سونا ہو تو مجھے یہ پسند ہے کہ تین راتیں ایسی نہ گزریں کہ اس میں سے کچھ میرے پاس ہو سوائے اتنے کے کہ جس سے قرض ادا کیا جاسکے۔‘‘ (۲)
انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کا مقام و مرتبہ:
(1990)…حضرتِ سیِّدُنا عبیداللّٰہ بن عتبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ مکہ مکرمہ، سرادرِ مدینہ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک کسی نبی کی روح قبض کرنے سے پہلے اسے اختیار دیا جاتا ہے (۳)۔‘‘ ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد حنبل، مسند عبداللّٰہ ابن عباس، الحدیث:۳۰۴۸، ج۱، ص۷۰۵۔
2…السنن الکبری للبیھقی، کتاب النکاح، باب ماأمرہ اللّٰہ تعالٰی…الخ، الحدیث:۱۳۳۰۶، ج۷، ص۷۴۔
3…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد8، صفحہ289 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: ساری مخلوق کی موت اضطراری ہوتی ہے مگر حضرات انبیاء کرام (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کی وفات اختیاری کہ پہلے انہیں رب کی طرف…