(۳)…حضرتِ سیِّدُنا عبیداللّٰہ بن عتبہ اور (۴)…حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن۔‘‘ (۱)
(1985)…حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْز فرماتے ہیں کہ ’’جس وقت خلافت کا بوجھ مجھ پر ڈالا گیا اس وقت اگر حضرتِ سیِّدُنا عبیداللّٰہ بن عتبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ زندہ ہوتے تو اس کی وجہ سے مجھے حقیر جانتے۔‘‘ (۲)
(1986)…حضرتِ سیِّدُنا ابوزناد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد فرماتے ہیں کہ ’’کئی بار میں نے دیکھا کہ والی ٔ مدینہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْز حضرتِ سیِّدُنا عبیداللّٰہ بن عتبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں حاضری کی اجازت چاہتے توآپ انہیں اکثر اجازت نہ دیتے،کبھی دے بھی دیتے۔‘‘ (۳)
(1987)…حضرتِ سیِّدُنا ابوزناد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبیداللّٰہ بن عتبہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْز کو یہ اشعار لکھ کر بھیجے:
بِاِسْمِ الَّذِیْ اُ نْزِلَتْ مِنْ عِنْدِہٖ السُّوَر وَالْحَمْدُلِلّٰہِ اَ مَّابَعْدیَاعُمَرُ
اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ مَا تَاْتِیْ وَمَاتَذَرُ فَکُنْ عَلٰی حِذْرٍقَدْیَنْفَعُ الْحَذَرُ
وَاصْبِرْعَلَی الْقَدْرِالْمَحْتُومِ وَارْضِ بِہٖ وَاِنْ اَتَاکَ بِمَا لَا تَشْتَہِیْ الْقَدَرُ
فَمَا صَفَالِاِمْرَیٍ عَیْشٌ یَسُرُّبِہٖ اِلَّاسَیَتَّبِعُ یَوْمًاصَفْوُہٗ کَدِرُ
ترجمہ:(۱)… اس ذات کے نام سے شروع جس کی پاک بارگاہ سے سورتوں کا نزول ہوا، تمام خوبیاں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں۔
(۲)…اے عمر بن عبدالعزیز! اگر سرانجام دینے اور چھوڑنے والے اعمال کو تم جانتے ہو تو محتاط رہو کیونکہ محتاط رہنا انسان کے لئے مفید ثابت ہوتا ہے۔
(۳)… جو مقدر میں ہے اس پر صبر کرو اور راضی رہو اگرچہ تقدیر تمہاری خواہش کے خلاف ہو۔
(۴)…صاف شفاف زندگی آدمی کو بھلی لگتی ہے مگر ایک نہ ایک دن اس کے ضمن میں اسے تکلیف دہ ایام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۳۳۶۴،عبداللّٰہ بن عبد الرحمٰن، ج۲۹، ص۲۹۹۔
2… صفۃ الصفوۃ، الرقم:۱۶۱، عبید اللّٰہ بن عبداللّٰہ بن عتبۃ، ج۲، ص۷۲۔
3… صفۃ الصفوۃ، الرقم:۱۶۱، عبید اللّٰہ بن عبداللّٰہ بن عتبۃ ، ج۲، ص۷۲۔
4…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۲۳۵۸، سابق بن عبد اللّٰہ، ج۲۰، ص۹، عن سابق بن عبداللّٰہ البربری۔