تین خوبیوں کے مالک:
(1982)…حضرتِ سیِّدُنا مغیرہ بن عبدالرحمن مخزومی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے اپنے والد سے روایت کیا کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَارِث نے فرمایا: ’’علم تین میں سے کسی ایک کے لئے (نفع مند) ہوتا ہے: (۱)…صاحب حسب و نسب کے لئے کہ اس کے ذریعے وہ اپنے نسب کو زینت بخشتا ہے (۲)…دین دار کے لئے کہ اس کے ذریعے وہ اپنے دین کو مزین کرتا ہے (۳)…یاسلطان کے لئے کہ وہ اس سے نفع حاصل کرتا ہے۔ میں حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر اور حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاکے سوا کسی کو نہیں جانتا کہ جس میں یہ تینوں خوبیاں جمع ہوں۔ یہ دونوں حضرات دین دار، اعلیٰ حسب ونسب اور سلطنت کے مالک تھے۔‘‘
سیِّدُنا ابوبکر بن عبدالرحمن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان سے مروی حدیث
(1983)…حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر بن عبدالرحمن عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’میں دن میں 70 سے زیادہ مرتبہ توبہ واستغفار کرتا ہوں۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا عُبَیْدُاللّہ بن عُتْبَہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
حضرتِ سیِّدُنا عبیداللّٰہ بن عبداللّٰہ بن عتبہ بن مسعود ہزلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بھی تابعین مدینہ منورہ اور چار بڑئے علما میں سے ایک ہیں۔ سحری کے وقت بیدار ہوکر کثرت سے ذکر الٰہی کرتے اور ہلاکت ودھوکے کے خوف سے دنیا سے کنارہ کش رہتے تھے۔
علم کے سمندر:
(1984)…حضرتِ سیِّدُنا امام زہری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی فرماتے ہیں کہ ’’میں نے قریش کے چار ایسے اشخاص کا زمانہ پایہ جو علم کے سمندر تھے: (۱)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب (۲)…حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی ھریرۃ، الحدیث:۷۷۹۸، ج۳، ص۱۲۳۔