Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
295 - 603
عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اَ للّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَم (یعنی اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خوب جانتے ہیں) (۱)۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’وہ لوگ کہ جب حق دئیے جائیں تو قبول کرلیں اور جب ان سے حق مانگا جائے تو دے دیں اور لوگوں کے لئے ایسے ہی فیصلے کریں جیسے اپنی ذات کے لئے کرتے ہیں۔‘‘  (۲)
(1979)…حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت کرتے ہیں کہ نبیوں کے سلطان، رحمت ِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص قدرت ہونے کے باوجود کسی عورت کے محاسن کو دیکھنے سے بچے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے دل میں عبادت (کا ایسا شوق) ڈال دیتا ہے جس کی وہ لذت پاتا ہے۔‘‘  (۳)
حضرت سیِّدُنا ابوبکر بن عبدالرحمن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان
	حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام مخزومی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ عالی مرتبت فقیہ، عبادت گزار اور قبیلۂ قریش کے عابد وزاہد مشہور تھے۔ ان سے زیادہ تر قضا واحکام کے متعلق احادیث مروی ہیں۔
(1980)…حضرتِ سیِّدُنا زبیر بن بکار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہ ’’حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَارِث کو راہب ِ مدینہ کہا جاتا تھا۔‘‘
(1981)…حضرتِ سیِّدُنا محمد بن اسحاق ثقفی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’میں نے ابوحسان کی کتاب میں لکھا دیکھا کہ حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر بن عبدالرحمن عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کو بکثرت نماز پڑھنے کی وجہ سے قریش کا راہب کہا جاتا تھا۔‘‘
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَیْہَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد5، صفحہ365 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: صحابۂ کرام (رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن) کا ادب یہ تھا کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ایسے سوال کے جواب میں یہ ہی عرض کرتے تھے کہ اللّٰہ  رسول جانیں، حج کے دن سوال فرمایا کہ آج کیا دن ہے یہ کون سی جگہ ہے سب کے جواب میں یہ ہی عرض کیا گیا کہ اللّٰہ  رسول جانیں معلوم ہوا کہ حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کو رب سے ملاکر ذکر کرنا بالکل جائز ہے۔
2…المسند للامام احمد بن حنبل، مسندسیدۃ عائشۃ، الحدیث:۲۴۴۳۳، ج۹، ص۳۳۶۔
3…الکامل فی ضعفاء الرجال، الرقم :۱۵۳۵، عصمۃ بن محمد، ج۴، ص۸۸۔