Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
294 - 603
عَنْہَا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔکریم، رَء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تم میں سے کسی ایک کے لقمہ (کا ثواب) اس طرح بڑھاتا ہے جس طرح کوئی اپنی اونٹنی کے بچے کی پرورش کرتا ہے حتی کہ اس ایک لقمہ کا ثواب احد پہاڑ کے برابر عطا فرماتا ہے۔‘‘  (۱)
بہترین نکاح:
(1976)…حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت کرتے ہیں کہ ’’بڑی برکت والا نکاح وہ ہے جس میں بوجھ کم ہو (۲)۔‘‘  (۳)
بہترین عورت:
(1977)…حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔپاک، صاحب ِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بڑی برکت والی عورت وہ ہے جس کا بوجھ (نفقہ) کم ہو۔‘‘  (۴)
سایۂ عرش کی طرف سبقت لے جانے والے:
(1978)…حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت کرتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے (عرش کے) سائے کی طرف سبقت لے جانے والے کون ہیں؟‘‘ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح ابن خزیمہ، کتااب الزکاۃ، باب فضل الصدقۃ…الخ، الحدیث:۲۴۲۶، ج۴، ص۹۳۔
	صحیح ابن حبان، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ التطوع، الحدیث:۳۳۰۷-۳۳۰۶، ج۵، ص۱۳۴، بتغیر قلیل۔
2…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَیْہَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد5، صفحہ11 پر اس کے تحت فرماتے ہیں:یہ کلمہ نہایت جامع ہے یعنی جس نکاح میں فریقین کا خرچ کم کرایا جائے، مہر بھی معمولی ہو، جہیز بھاری نہ ہو،کوئی جانب مقروض نہ ہوجائے ، کسی طرف سے شرط سخت نہ ہواللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کے توکل پر لڑکی دی جائے وہ نکاح بڑا ہی بابرکت ہے ایسی شادی خانہ آبادی ہے آج ہم حرام رسموں بیہودہ رواجوں کی وجہ سے شادی کو خانہ بربادی بلکہ خاہنابربادی بنا لیتے ہیںاللّٰہتعالیٰ اس حدیث پر عمل کی توفیق دے۔
3…شعب الایمان، باب الاقتصاد فی النفقۃ…الخ، الحدیث:۶۵۶۶، ج۵، ص۲۵۴۔
4…المسند للامام احمد بن حنبل، مسندسیدۃ عائشۃ، الحدیث:۲۵۱۷۳، ج۹، ص۴۷۸۔