’’ہائے ہلاکت! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میرا خیال ہے کہ آپ میری موت چاہتے ہیں، اگر ایسا ہوگیا تو آج دن کے آخر میں آپ کسی اور زوجہ کے پاس آرام فرمائیں گے۔‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بلکہ ہائے میرا سر! میں نے قصد یا ارادہ کیا تھا کہ ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلاؤں اور ولی عہد کروں اس خطرے سے کہ کہنے والے کہیں یا تمنا کرنے والے تمنا کریں، پھر سوچا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ انکار کرے گا اور مسلمان دفع کریں گے یااللّٰہ عَزَّوَجَلَّ دفع کرے گا اور مسلمان انکار کریں گے (۱)۔‘‘ (۲)
بادل دیکھو تو یہ دعاپڑھو!
(1974)…حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ، راحت ِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بادل دیکھتے تو یہ دعا کرتے: ’’اَللّٰہُمَّ صَیِّبًا ہَنِیْئًا یعنی اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! موسلا دھار اور سکون کی بارش نازل فرما۔‘‘ (۳)
احد پہاڑ کے برابر ثواب:
(1975)…حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد8، صفحہ305 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: میرا دل چاہتا ہے کہ ابوبکر صدیق کو ان کے بیٹے عبدالرحمن کے ساتھ بلاکر باقاعدہ ابوبکر کو اپنا خلیفہ جانشین کردوں اور ان کے ولی عہد ہونے کا عبدالرحمن کے گواہ ہونے کا اعلان کردوں۔ (پھر سوچا کہ) ابوبکر صدیق کی خلافت کا ارادہ الٰہی ہوچکا ہے وہ میری خلافت کے لئے منتخب ہوچکے ہیں۔ نیز مسلمانوں کے دل کہیں گے کہ میرے بعد خلیفہ وہی ہوں اس لئے میں ان کی خلافت کا اعلان نہیں کرتا۔ خیال رہے کہ حضور انور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے عملی طور پر حضرت صدیق (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) کو اپنا ولی عہد کردیا تھا کہ اپنے سامنے آپ کو اپنے مصلے پر کھڑا کر دیا، مسلمانوں کا امام بنادیا یہ امامت گویا آپ کی دستار خلافت تھی۔ حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے دستار بندی خود کردی تھی، صراحتہً اعلان نہیں کیا تاکہ ولی عہد بنانے کا یہ بھی ایک طریقہ رہے بلکہ حجۃ الوداع سے ایک سال پہلے حج میں حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے حضرت صدیق (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) کو ہی اپنا نائب بناکر سورۂ توبہ کے احکام کا اعلان کرنے بھیجا کہ آیندہ سے کوئی مشرک حج نہ کرے کوئی ننگا طواف نہ کرے۔ ان امور سے معلوم ہورہا ہے کہ حضرت صدیق (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) کا خلافت کے لئے انتخاب اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کی طرف سے تھا۔ مسلمانوں کا اس پر اجماع ہوا حضور انور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے اس کی عملی وضاحت فرمادی۔ لہٰذا اس خلافت کا انکار کفر ہے۔
2…صحیح البخاری، کتاب المرضی، باب مارخّص للمریض…الخ، الحدیث:۵۶۶۶، ج۴، ص۱۱۔
3…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند سیدۃ عائشۃ، الحدیث:۲۴۹۳۱، ج۹، ص۴۳۲۔