Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
291 - 603
سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد سے پوچھا: ’’آپ بڑے عالم ہیں یا حضرتِ سیِّدُنا سالم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم؟‘‘ فرمایا: ’’یہ مقام ومرتبہ توحضرتِ سیِّدُنا سالم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم کو حاصل ہے۔‘‘ اس کے علاوہ آپ نے کچھ نہ کہا حتی کہ اعرابی لوٹ گیا۔  (۱)
	حضرتِ سیِّدُنا محمد بن اسحاق عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق فرماتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد نے یہ کہنا ناپسند جاناکہ ’’حضرتِ سیِّدُنا سالم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم مجھ سے بڑے عالم ہیں۔‘‘ کیونکہ یہ جھوٹ ہوتا (اس لئے کہ آپ زیادہ علم رکھتے تھے) نیز اگر یہ کہتے کہ ’’میں بڑا عالم ہوں‘‘ تو یہ اپنی تعریف خود کرنا ہے جو ناپسندیدہ ہے۔  (۲)
متقی و پرہیزگار:
(1971)…حضرتِ سیِّدُنا ایوب عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَدُوْد بیان کرتے ہیں کہ ’’میں نے حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد کو سبز رنگ کی ٹوپی اور زعفران سے رنگی ہوئی سابری چادر پہنے دیکھا، جبکہ تقویٰ وپرہیزگاری کا عالم یہ تھا کہ ایک لاکھ درہم صرف اس لئے نہ لئے کہ ان کے لینے میں دل مطمئن نہ تھا۔‘‘  (۳)

{…مدنی قافلوں اور فکرمدینہ کی برکتیں…}
	’’دعوتِ اسلامی ‘‘کے سنتوںکی تربیت کے’’ مدنی قافلوں‘‘میں سفراورروزانہ’’ فکرِمدینہ ‘‘ کے ذریعے ’’مدنی انعامات‘‘ کارسالہ پرکرکے ہرمدنی (اسلامی) ماہ کے ابتدائی دس دن کے اندراندر اپنے یہاں کے(دعوت اسلامی کے) ذمہ دارکوجمع کروانے کامعمول بنالیجئے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی برکت سے’’ پابندسنت‘‘ بننے ، ’’گناہوں سے نفرت‘‘ کرنے اور’’ایمان کی حفاظت‘‘ کے لئے کڑہنے کا ذہن بنے گا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ  1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۵۲۴۰، القاسم بن محمد، ج۴۹، ص۱۷۲۔
2…المرجع السابق۔			3… المرجع السابق، ص۱۸۴۔