(1966)…حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن سعید عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد فرماتے ہیں کہ ’’تابعین مدینہ منورہ میں ہمیںکوئی ایسا شخص نہیں ملا جسے ہم حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد پر فضیلت دے سکیں۔‘‘ (۱)
(1967)…حضرتِ سیِّدُنا ایوب عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَدُوْد بیان کرتے ہیں کہ منیٰ میں لوگوں نے حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد سے کچھ سوالات کئے تو آپ نے فرمایا: ’’میں نہیں جانتا، مجھے علم نہیں ہے۔‘‘ کثیر سوالات ہوئے تو فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! جو کچھ تم پوچھتے ہو اس کا مجھے علم نہیں، اگر مجھے علم ہوتا تو تم سے کبھی نہ چھپاتا اور میرے لئے جائز بھی نہیں کہ تم سے کوئی علم کی بات چھپاؤں۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن سعید عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد کو فرماتے سنا: ’’جو کچھ تم پوچھتے ہو وہ سب میں بیان نہیں کرسکتا۔ اگر حقوقُ اللّٰہ کو جاننے کے بعد بھی بندہ جاہل رہے تو یہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ وہ ایسی بات کہے جس کا اسے علم نہیں۔‘‘ (۲)
عالم کی ایک نشانی:
(1968)…حضرتِ سیِّدُنا ابوزناد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد فرماتے ہیں کہ ’’میں نے حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد سے بڑھ کر سنت رسول کا عالم کسی کو نہیں پایا، اُس زمانے میں کسی کو اس وقت تک عالم نہیں سمجھا جاتا تھا جب تک وہ سنت کی معرفت حاصل نہ کر لیتا۔‘‘ (۳)
(1969)…حضرتِ سیِّدُنا رجاء بن ابی سلمہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد حج یا عمرہ کے ارادے سے نکلے تو مکہ ومدینہ کے درمیان ان کا وصال ہوا۔ بوقت وصال بیٹے سے فرمایا: قبر میں رکھنے کے بعد آہستہ آہستہ مٹی ڈالنا اور قبر کو برابر کر دینا، پھر گھر لوٹ جانا اور یوں نہ کہنا کہ ’’میرا باپ ایسا تھا، میرا باپ ایسا تھا۔‘‘ (۴)
(1970)…حضرتِ سیِّدُنا محمد بن اسحاق عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق بیان کرتے ہیں کہ ایک بار ایک اعرابی نے حضرتِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۵۲۴۰، القاسم بن محمد، ج۴۹، ص۱۶۷۔
2…المرجع السابق، ص۱۷۵۔ 3…المرجع السابق، ص۱۶۸۔
4…المرجع السابق، ص۱۸۸۔