حضرت سیِّدُنا قاسم بن محمد بن ابوبکررَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ فقیہ، متقی وپرہیزگار، مہربان وشفیق، عاجزی وانکساری کے پیکر، اعلیٰ حسب ونسب کے مالک امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پوتے ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ دین کے احکامات کی باریکیوں پر فوقیت اور عمدہ اخلاق کی طرف سبقت لے جانے والوں میں سے تھے۔
علمائے تصوف فرماتے ہیں کہ لوگوں میں اٹھنے بیٹھے والے کا زیب و زینت اختیار کرنے اور طالب کا بلندی ٔ درجات کے حصول میں لگے رہنے کا نام تصوُّف ہے۔
(1963)…حضرتِ سیِّدُنا افلح بن حمید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ جب عبدالملک بن مروان کا انتقال ہوا تو حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْز کو بہت زیادہ رنج ہوا، زندگی کی نعمتوں کو خود سے دور کر دیا حالانکہ آپ ناز ونعم میں پلے بڑھے تھے، 70دن تک کھردرا لباس پہنے رہے۔ حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَحَد نے ان سے کہا: ’’کیا تمہیں معلوم ہے کہ ہمارے اسلاف مصائب کا بڑی جواں مردی سے استقبال کیا کرتے اور نعمتیں ملنے پر عاجزی وانکساری کا اظہار کرتے تھے۔‘‘ چنانچہ، حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْز نے اسی دن یمنی لباس خریدا جس کی مالیت آٹھ ہزار دینار تھی، اسے پہن کر غم کی کیفیت کو ختم کر دیا۔ (۱)
(1964)…حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد فرمایا کرتے تھے: ’’گناہ اہل گناہ ہی سے سرزد ہوتے ہیں۔‘‘ (۲)
سب سے بڑا فقیہ:
(1965)…حضرتِ سیِّدُنا ابوزناد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد فرماتے ہیں کہ ’’میں نے حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد سے افضل کوئی فقیہ نہیں دیکھا۔‘‘ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۵۲۴۰، عمر بن عبد الرحمن، ج۴۵، ص۱۳۸۔
2… تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۵۲۴۰، القاسم بن محمد، ج۴۹، ص۱۷۳۔
3…المرجع السابق، بتغیر قلیل۔ المرجع السابق، ص۱۶۷، بتغیر قلیل۔