Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
287 - 603
برا ساتھی:
(1958)…حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت کرتے ہیں کہ جب سردارِ دوجہان، محبوب رحمن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یہ دعا پڑھتے: ’’اَللّٰہُمَّ مَتِّعْنِیْ بِسَمْعِیْ وَبَصْرِیْ وَعَقْلِیْ وَاجْعَلْہُمَا الْوَارِثَ مِنِّیْ وَانْصُرْنِیْ عَلٰی عُدُوِّیْ وَارْنِیْ فِیْہِ ثَاْرِیْ یعنی اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے میرے کانوں، آنکھوں اور عقل سے فائدہ پہنچا، انہیں میرا وارث بنا، دشمن کے خلاف میری مدد فرما اور مجھے اس سے بدلہ دکھا۔‘‘
	ایک روایت میں اتنا زائد ہے: ’’اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ غَلْبَۃِ الدَّیْنِ وَمِنَ الْجُوْعِ فَاِنَّہُ بِئْسَ الضَّجِیْع یعنی اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میں قرض کے غلبے اور بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ برا ساتھی ہے۔‘‘  (۱)
بیت الخلا جاتے وقت کی سنت:
(1959)…حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔکریم، رَء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب بیت الخلا تشریف لے جاتے تو سرانور کو ڈھانپ لیتے۔‘‘  (۲)
جہنم سے مومن کا حصہ:
(1960)…حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بار حضور نبی ٔ پاک، صاحب ِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قبیلہ بنوغفار کے ایک شخص کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے، وہ شدت بخار کی وجہ سے چیخ وپکار کررہا تھا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اور خاص متوکلین کل مال بھی لٹا سکتے ہیں، یہ حدیث دونوںکو شامل ہے۔ یعنی اپنا مال پہلے اپنے پر پھر اپنے بال بچوں پر پھر غریب قرابت والوں پر پھر دوسروں پر خرچ کرو چونکہ مومن کو ان سب خرچوں میں صدقہ کاثواب ملتا ہے، اسی لیے حضور انور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ان خرچوں کو صدقہ میں شامل فرمایا، سُبْحَانَ اللّٰہ   کیسی پیاری ترتیب ہے اور کیسی نفیس تعلیم، اہل قرابت کو صدقہ دینے میں صدقہ کا بھی ثواب ہے اور قرابت ادا کرنے کا بھی۔
1…شعب الایمان، باب فی تعدید…الخ، فصل فی فضل العقل، الحدیث:۴۷۰۱، ج۴، ص۱۷۰۔
2…السنن الکبری للبیقھی، کتاب الطھارۃ، باب تغطیۃ الرأس عند دخول الخلاء، الحدیث:۴۴۵۵، ج۱، ص۱۵۵۔