سے روایت کرتے ہیں کہ مصطفیٰ جان رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے استفسار فرمایا: ’’اے ابومحمد! تم نے حجراسود کا استلام کس طرح کیا؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں نے اس کا بوسہ لیا اور ہٹ گیا۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’تم نے درست کیا۔‘‘ (۱)
گمراہ اور گمراہ کن پیشوا:
(1956)…حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضور انور، شافع محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ علم کھینچ کر نہ اٹھائے گا کہ بندوں سے کھینچ لے بلکہ علما کی وفات سے علم اٹھائے گا حتی کہ جب کوئی عالم نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے جن سے مسائل پوچھے جائیں گے وہ بغیر علم فتویٰ دیں گے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔‘‘ (۲)
بہترین صدقہ:
(1957)…حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ سرور انبیا، محبوب کبریا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بہترین صدقہ وہ ہے جو قوت غنا سے ہو اور ان سے ابتدا کرو جن کی تم پرورش کرتے ہو۔‘‘ (۳) (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المستدرک، کتاب معرفۃ الصحابۃ، باب ذکروفاۃ عبدالرحمن بن عوف، الحدیث:۵۳۸۸، ج۴، ص۳۶۲۔
2…صحیح مسلم، کتاب العلم، باب رفع العلم…الخ، الحدیث:۲۶۷۳، ص۱۴۳۷۔
3…تاریخ بغداد، الرقم:۴۵۹۶، زیادبن خلیل، ج۸، ص۴۸۳۔
صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، باب بیان، ان الیدالعلیا…الخ، الحدیث:۲۳۸۶، ص۸۴۱۔
4…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد3، صفحہ116پر اس کے تحت فرماتے ہیں: صدقہ بہتر وہ ہے کہ صدقہ دینے والا صدقہ دے کر خود بھی خوب غنی رہے یا تو مال کا غنی رہے یعنی سب خیرات نہ کردے کہ کل کو خود اور اس کے بال بچے بھیک مانگتے پھریں، غرض کہ صدقہ دے کر خود فقیر بھکاری نہ بن جاؤ یا دل کا غنی کہ سب کچھ دے کر بھی لوگوں سے بے نیاز رہے، جیسے حضرت ابوبکر صدیق نے سب کچھ راہ خدا میں دے دیا کہ گھر میں کچھ نہ رکھا لہٰذا یہ حدیث صدیق اکبر کے اس عمل کے خلاف نہیں، خلاصہ یہ ہے کہ عوام مسلمین اصلی ضرورت سے زیادہ مال خیرات کریں رب تعالیٰ فرماتا ہے: وَیَسْـَٔلُوۡنَکَ مَاذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ؕ قُلِ الْعَفْوَؕ (پ۲،البقرۃ:۲۱۹، ترجمۂ کنزالایمان: اور تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں تم فرماؤ جو فاضل بچے)عفو سے مراد ضرورت سے بچا مال …