یہود سے مشابہت نہ کرو۔‘‘ (۱)
جنت میں افضل گھر:
(1953)…حضرتِ سیِّدُنا عروہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت کرتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے مسجد بنائے گا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے جنت میں گھر بنا ئے گا (۲)۔‘‘ (۳)
سات زمینوں کا طوق:
(1954)…حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ مکی مدنی سلطان، رحمت عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو بالشت بھر زمین ظلماً لے لے تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق (ہار) پہنایا جائے گا (۴)۔‘‘ (۵)
(1955)…حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسلمانوں کے لئے اختیار ہے کہ بال سفید رکھیں یا سیاہ کے علاوہ کوئی اور خضاب لگائیں۔
1…سنن النسائی، کتاب الزینۃ، باب الاذن بالخضاب، الحدیث:۵۰۸۳، ص۲۴۱۴۔
2…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد1، صفحہ433پر اس کے تحت فرماتے ہیں: یعنی مسجد بنانے والے کے لیے جنت میں ایسا گھر بنایا جائے گا جو وہاں دوسرے مکانوں سے ایسا افضل ہوگا جیسے مسجد دنیا کے دوسروں گھروں سے ورنہ جنت کے گھروں کو یہاں کی عمارات سے کیا نسبت، خیال رہے کہ پوری مسجد بنانا اور تعمیر مسجد میں چندہ دینا دونوں کے لیے یہی بشارت ہے بشرطیکہ ریاء کے لیے نہ ہو اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ)کے لیے ہو اسی لیے علماء مسجد پر اپنا نام لکھنے کو منع کرتے ہیں کہ اس میں ریاء کا شائبہ ہے ہاں اگر طلب دعا کے لیے ہو تو حرج نہیں (مرقاۃ) اسی حدیث کی بناء پر صحابۂ کرام اور اسلامی بادشاہوں نے اپنی یادگاروں میں مسجدیں چھوڑیں، مسجد بڑی ہو یا چھوٹی کچی ہو یا پکی ثواب بقدر اخلاص ہے۔
3…سنن ابن ماجہ، ابواب المساجد، باب من بنی مسجدا، الحدیث:۷۳۷، ص۲۵۲۱۔
4…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد4، صفحہ313پر اس کے تحت فرماتے ہیں: پہلے تو اس غاصب کو زمین کے سات طبق کا طوق پہنایا جائے گا پھر اسے زمین میں دھنسایا جائے گا۔ لہذا جن احادیث میں ہے کہ اسے زمین میں دھنسایا جائے گا وہ احادیث اس حدیث کے خلاف نہیں۔
5…صحیح مسلم، کتاب المساقات، باب تحریم الظلم…الخ، الحدیث:۱۶۱۰، ص۸۷۰۔