اختیار کرنے ہی میں عافیت ہے۔‘‘ (۱)
سیِّدُنا عروہ بن زبیر عَلَیْہِ الرَّحْمَہ کی سخاوت:
(1951)…حضرتِ سیِّدُنا ابن شوذب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ جب پکی ہوئی تازہ کھجوروں کا موسم آتا تو حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے باغ کی دیوار میں شگاف بنادیتے اور لوگوں کو داخلے کی اجازت دے دیتے۔ چنانچہ، لوگ جوق در جوق داخل ہوتے، کھاتے پیتے اور ساتھ بھی لے جاتے۔ آس پاس کے دیہات کے لوگ بھی آتے، کھاتے پیتے اور ساتھ بھی لے جاتے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب بھی باغ میں داخل ہوتے تو بار بار اس آیت مقدسہ کی تلاوت کرتے:
وَلَوْلَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَکَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللہُ ۙ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ ۚ › (پ۱۵، الکہف:۳۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور کیوں نہ ہوا کہ جب تو اپنے باغ میں گیا تو کہا ہوتا جو چاہے اللّٰہ ہمیں کچھ زور نہیں مگر اللّٰہ کی مدد کا۔
یہاں تک کہ گھر تشریف لے جاتے۔ (۲)
سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
سے مروی اَحادیث
حضرتِ سیِّدُنا شیخ حافظ ابونُعَیم احمد بن عبداللّٰہ اصفہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کبار صحابۂ کرام وصحابیات رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے بے شمار احادیث روایت کی ہیں جو احاطۂ شمار سے باہر ہیں۔ان کی اپنے والد ودیگر حضرات سے روایت کردہ چند احادیث:
(1952)…حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی ٔ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بڑھاپے کی نشانی بدلو (۳) اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۶۸۷، عروۃ بن زبیر، ج۴۰، ص۲۸۰۔
2…شعب الایمان، باب فی ان یحب الرجل لاخیہ المسلم، الحدیث:۱۱۲۲۶، ج۷، ص۵۲۸۔
3…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد6، صفحہ167 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: یہ حکم مجاہدین کے لئے ہے کہ وہ سفید بال لیکر جہاد میں نہ جائیں یا ان کے لئے جو سفید بالوں کی حالت میں مسلمان ہوں دوسرے …