Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
283 - 603
عَزَّوَجَلنے آپ کے ساتھ بھلائی کی، وگرنہ بخدا! آپ کو سفر کی چنداں ضرورت نہ تھی۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا مجھ پر کتنا فضل واحسان ہے کہ مجھے سات بیٹے عطا فرمائے جب تک چاہا ان سے لطف اندوز ہونے دیا پھر ان میں سے ایک کو واپس لے لیا اور چھ کو میرے پاس رہنے دیا، ایک عضو واپس لے لیا اور پانچ اعضاء یعنی دو ہاتھ، ایک پاؤں، کان اور آنکھ میرے پاس رہنے دیئے۔‘‘  (۱)
(1948)…حضرتِ سیِّدُناامام زہری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاؤں میں آکِلَہ کا مرض ہوگیا تھا اس کا اثر پنڈلی تک تجاوز کرنے لگا تو ولید بن عبدالملک نے اطبا کو ان کے پاس بھیجا، انہوں نے کہا: ’’اس عضو کو کاٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔‘‘ چنانچہ، پاؤں کاٹ دیا گیا مگر آپ کے چہرے پر ذرہ بھی تکلیف کے آثار ظاہر نہ ہوئے۔‘‘  (۲)
(1949)…حضرتِ سیِّدُنا ہشام بن عروہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’تم میں سے جب کوئی دنیا کی زیب وزینت دیکھے تو فوراً اپنے اہل خانہ کے پاس آجائے ، انہیں نماز کا حکم دے اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَا بِہٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْہُمْ زَہۡرَۃَ الْحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۬ۙ لِنَفْتِنَہُمْ فِیۡہِ ؕ   (پ۱۶، طٰہٰ:۱۳۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اے سننے والے اپنی آنکھیں نہ پھیلا اس کی طرف جو ہم نے کافروں کے جوڑوں کو برتنے کے لئے دی ہے جیتی دنیا کی تازگی کہ ہم انہیں اس کے سبب فتنہ میں ڈالیں۔ (۳)
کنارہ کشی ہی میں عافیت ہے:
(1950)…انہی سے مروی ہے کہ جب حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عقیق کے مقام پر مکان تعمیر کروایا تو لوگوں نے کہا: ’’آپ نے مسجد نبوی سے دوری اختیار کر لی ہے۔‘‘ فرمایا: ’’میں نے لوگوں کی مسجد کو لہو و لعب کا مرکز اور ان کے بازار کو مہنگائی کا گڑھ پایا، ان کے راستے بے حیائی کے بازار ہیں، لہٰذا ان سے کنارہ کشی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۶۸۷، عروۃ بن زبیر، ج۴۰، ص۲۶۵، بتغیر قلیل۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۶۸۷، عروۃ بن زبیر، ج۴۰، ص۲۶۰۔
3…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، کلام الحسن البصری، الحدیث:۱۴۹، ج۹، ص۲۷۱۔