(1944)…حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے غلام حضرت سیِّدُنا عبدالواحد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَاحِد بیان کرتے ہیں کہ ’’جب حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا پاؤں ٹخنوں سے کاٹا گیا میں وہاں موجود تھا اس وقت آپ روزے سے تھے۔‘‘ (۱)
(1945)…حضرتِ سیِّدُنا ابن شوذب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ’’حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہر روز چوتھائی قرآن کی تلاوت کرتے اور اتنا ہی رات کو نماز میں پڑھتے اور کبھی اسے ترک نہ کیا سوائے اس کے کہ جس رات آپ کا پاؤں کاٹا گیا لیکن اگلی رات اس کا اعادہ کیا۔‘‘ (۲)
(1946)…حضرتِ سیِّدُنا ہشام بن عروہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد حضرتِ سیِّدُنا عروہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ولید بن عبدالملک کے پاس گئے تو ان کے پاؤں میں آکِلَہ کا مرض ہوگیا۔ ولید نے کہا: ’’اے ابوعبداللّٰہ! میرا مشورہ ہے کہ پاؤں کٹوادیں۔‘‘ چنانچہ، جب آپ کا پاؤں کاٹاگیا اس وقت آپ روزے سے تھے، لیکن پھر بھی چہرے پر ذرّہ برابر تکلیف کے اثرات نہیں تھے۔ اسی دوران آپ کا بڑا بیٹا اصطبل کی طرف گیا تو کسی گھوڑے نے ٹانگ ماری جس کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگیا۔ چنانچہ، مدینہ منورہ واپسی تک میں نے اپنے والد محترم کے منہ سے کوئی بات نہ سنی، مدینہ طیبہ پہنچ کر بارگاہِ الٰہی میں یوں عرض گزار ہوئے: ’’اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میری چار اطراف تھیں (یعنی دو ہاتھ اور دو پاؤں) ایک تو نے لے لی اور تین باقی رہنے دیں اس پر تیرا شکر ہے اور میرے چار بیٹے تھے ایک تو نے لے لیا تین رہنے دئیے اس پر بھی تیرا شکر ہے۔ اے اللّٰہ عَزَّوَجَل تیری قسم! اگر تو نے اسے لے لیا ہے تو باقی بھی رکھا ہے اور اگر تو نے آزمایش میں مبتلا کیا ہے تو بہت عرصہ عافیت وآرام میں بھی رکھا ہے۔‘‘ (۳)
(1947)…حضرتِ سیِّدُنا مسلمہ بن محارب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَاحِد سے مروی ہے کہ جب حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ولید کے پاس سے مدینہ منورہ لوٹے تو قریش وانصار آپ کے بیٹے اور پاؤں کی تعزیت کے لئے آئے۔ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ بن طلحہ بن عبیداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان سے کہا: ’’اے ابوعبداللّٰہ! یقینا اللّٰہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۳۵۰، عبدالواحد بن میمون ، ج۳۷، ص۲۷۹۔
2…شعب الایمان، باب فی حسن الخلق، الحدیث:۲۲۳۰، ج۲، ص۴۱۰۔
3…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۱۶۱، عروۃ بن زبیر بن العوام، ج۲، ص۶۲، بتغیر۔