Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
281 - 603
صبر و استقلال کے پیکر:
(1942)…حضرتِ سیِّدُنا مسلمہ بن محارب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے بیٹے حضرت سیِّدُنا محمد بن عروہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ہمراہ ولید بن عبدالملک کے پاس تشریف لے گئے، بیٹے اصطبل میں گئے تو کسی گھوڑے کے ٹانگ مارنے کے سبب گر پڑے اور ان کی موت واقع ہوگئی، اسی دوران حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاؤں میں آکِلَہ    کا مرض (Cancerسرطان) ہوگیا لیکن آپ نے اس رات بھی اپنے اوراد ووظائف نہ چھوڑے۔ ولید نے کہا: پاؤں کٹوادیں لیکن آپ نے انکار کر دیا۔ جب یہ پنڈلی کی جانب سرایت کرنے لگا تو ولید نے مشورہ دیا کہ پاؤں کٹوادیں ورنہ آپ کا تمام جسم بیکار ہوجائے گا۔ چنانچہ، پاؤں آری سے کاٹ دیا گیا، اس وقت آپ بوڑھے تھے لیکن پھر بھی کسی کا سہارا نہ لیا۔ جب (ولید بن عبدالملک کے پاس) واپس لوٹے تو فرمایا: ’’اس سفر میں ہمیں بہت مشقت کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘  (۱)
(1943)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن محمد بن عبید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ جس رات مرض آکِلَہ کی وجہ سے حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا پاؤں کاٹا گیا اس کے علاوہ کبھی آپ نے اپنے اوراد ووظائف ترک نہ کئے۔ اس وقت آپ معن بن اوس کے یہ اشعار پڑھ رہے تھے:
لَعَمْرُکَ مَااَہْوَیْتُ کَفِّیْ لِرَیْبَۃٍ            وَلَاحَمَلْتَنِیْ نَحَوُفَاحِشَۃِ رِجْلِیْ
وَلَاقَادَنِیْ سَمْعِیْ وَلَا بَصْرِیْ لَہٗ          وَلَادَلَّنِیْ رَاْیِیْ عَلَیْہَاوَلَاعَقْلِیْ
وَاَعْلَمُ اِنِّیْ لَمْ تُصِبْنِیْ مُصِیْبَۃٌ           مِنَ الدَّہْرِ اِلَّاقَدْاَصَابَتْ فَتًی قَبْلِیْ
	ترجمہ:(۱)…تیری عمر کی قسم! میں نے اپنی ہتھیلی کسی بے قراری کی وجہ سے بلند نہیں کی اور نہ ہی اس (یعنی پاؤں میں موجود) جیسے ناسور نے کبھی مجھ پر حملہ کیا ہے۔
	(۲)…میرے کانوں اور آنکھوں نے میری راہ نمائی نہیں کی اور نہ ہی اس پر میری رائے یا عقل نے دلالت کی۔
	(۳)…مجھے معلوم ہے کہ مجھے سوائے اس مصیبت کے جو مجھ سے پہلے نوجوان کو پہنچ گئی زمانہ میں کوئی مصیبت نہیں پہنچی۔  (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۶۸۷، عروۃ بن زبیر، ج۴۰، ص۲۶۱-۲۶۲۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۵۷۷، معن بن اوس، ج۵۹، ص۴۲۹۔