بیٹوں کو نصیحت:
(1939)…انہی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے بیٹوں سے فرمایا: اے بیٹو! تم میں سے کوئی بھی بارگاہِ الٰہی میں ایسی چیز پیش نہ کرے جو کسی صاحب عزت کے سامنے پیش کرتے ہوئے شرم آتی ہو کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سب سے زیادہ عزت والا اور اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اسے ہی ترجیح دی جائے۔ اے بیٹو! علم حاصل کرو کیونکہ اگر تم لوگوں میں کم مرتبہ ہوئے تو امید ہے کہ علم کی بدولت بڑے مرتبہ والے ہوجاؤ۔ ہائے افسوس! بوڑھا جاہل سب سے زیادہ برا ہے۔ اے بیٹو! جب کسی کو شر کا خوشنما لباس پہنے دیکھو تو اس سے بچو اور اگر لوگوں کے پاس کوئی سچا آدمی ہو تو یہ سمجھنا کہ اس صدق کے ضمن میں اس کے پاس اور بھی سچائیاں ہوں گی اور جب کسی کو بھلائی کا خوشنما لباس زیب تن کئے ہوئے دیکھو تو اس سے ناامید نہ ہونا اور اگر لوگوں کے پاس کوئی برا آدمی ہو تو یہ خیال کرنا کہ اس برائی کے ضمن میں یہ اور بھی برائیوں کا مرتکب ہوگا کہ لوگ ماں باپ کے ہی نقش قدم پر ہوتے ہیں۔‘‘ (۱)
(1940)…انہی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (اپنے بیٹوں سے) فرمایا کرتے: ’’جس طرح حسن و جمال کے عاشق ہیں ایسے ہی شرف و عزت کے بھی عاشق ہیں۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے فلاں عورت کے دل میں فلاں قبیلہ کی الفت پیدا فرما دی وہ سب طویل القامت اور خوبصورت تھے مگر اس نے انہیں سیاہ و کوتاہ قامت میں تبدیل کردیا۔‘‘ (۲)
(1941)…انہی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’حکمت کے موضوع پر لکھی گئیں کتب میں ہے کہ ’’تمہاری گفتگو اچھی، پاکیزہ اور تم خوش مزاج ہو تو جنہیں تم عطیات دیتے ہوان کے نزدیک تم سب سے زیادہ محبوب ہو جاؤگے۔‘‘ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۱۶۱، عروۃ بن زبیر بن العوام، ج۲، ص۶۱۔
شعب الایمان، باب فی الزکاۃ…الخ، الحدیث:۳۴۵۳، ج۳، ص۲۵۰۔
تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۶۸۷، عروۃ بن زبیر، ج۴۰، ص۲۶۹، بتغیر قلیل۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۶۸۷، عروۃ بن زبیر، ج۴۰، ص۲۶۹۔
3…شعب الایمان، باب فی حسن الخلق، الحدیث:۸۰۵۷، ج۶، ص۲۵۴۔