Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
279 - 603
سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب ملک شام آئے تو اپنے آنے کی وجہ بیان کرنا اور مال کا تقاضا کرنا مناسب نہ سمجھا ۔ لہٰذا ان سے ملاقات تو کرتے لیکن مال کا تقاضا کرنے میں حیا برتتے۔ ایک دن حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن عبیداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان سے کہا: ’’کیا امانت واپس لینے کا ارادہ نہیں ہے؟‘‘ کہا: ’’کیوں نہیں۔‘‘ کہا: ’’تو پھر کسی کو بھیج کر منگوا لیں۔‘‘ پوچھا: ’’کب؟‘‘ کہا: ’’جب چاہیں لے جائیں۔‘‘ چنانچہ، حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کسی کو ان کے ساتھ بھیج دیا لیکن جس گھر میں مال رکھا تھا اچانک وہ منہدم ہوگیا، لہٰذا جب مال نکال کر آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے بطور تمثیل درج ذیل اشعار پڑھے:
فَمَااسْتَخْبَاْتُ فِی رَجُلٍ خَبِیْئًا              کَمَثَلِ الدِّیْنِ اَوْ حَسْبِ عَتِیْقٍ
ذَوُوْ الْاَحْسَابِ اَکْرَمُ مَاْثُرَاتِ              وَاَصْبَرُ عِنْدَ نَائِبَۃِ الْحُقُوْقِ
	ترجمہ: میں نے ایک شخص کے متعلق (دل میں) ایک بات پوشیدہ رکھی جیسا کہ دین اور عمدہ حسب و نسب لیکن صاحب ِ حسب ونسب عزت ووقار کے اعتبار سے افضل ہوتے اور حقوق کی ادائیگی کے وقت صبر واستقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔  (۱)
عزت کا سبب:
(1937)…حضرتِ سیِّدُنا ہشام بن عروہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’ذلت کا باعث بننے والے بہت سے کلمات سن کر میں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑااس کے سبب مجھے طویل عزت سے نوازا گیا۔‘‘  (۲)
نیکی اور برائی میں فرق:
(1938)…انہی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’جب تم کسی کو نیکی کرتے دیکھو تو جان لو کہ کچھ اور نیکیاں بھی اس کے نامۂ اعمال میں ہیں اور جب کسی کو برائی کرتے دیکھو تو سمجھ لو کہ وہ کچھ اور برائیوں کا بھی مرتکب ہے کیونکہ نیکی دیگر نیکیوں کی طرف اور برائی دوسری برائی کی طرف لے جاتی ہے۔‘‘  (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تہذیب التہذیب، حرف الطاء، الرقم:۲۴۷۰، طلحۃ بن عبد اللّٰہ بن عبد الرحمٰن، ج۴، ص۱۱۱، بتغیر۔
2… تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۶۸۷، عروۃ بن زبیر، ج۴۰، ص۲۷۱۔
3…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۶۸۷، عروۃ بن زبیر، ج۴۰، ص۲۶۹۔