Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
278 - 603
 تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن حجر اسود کے پاس جمع ہوکر ایک دوسرے سے کہنے لگے اپنی اپنی خواہش کا اظہار کرو۔ حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا: ’’میری خواہش ہے کہ مجھے خلافت ملے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا : ’’میں چاہتا ہوں کہ مجھ سے علم حاصل کیا جائے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا مصعب بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا: ’’میری تمنا ہے کہ عراق کی خوبصورت عورت اور قریش کی دو عورتیں عائشہ بنت طلحہ اور سکینہ بنت حسین میرے عقد میں آجائیں۔‘‘ حضرت سیِّدُناعبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا: ’’میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ میری مغفرت فرما دے۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں کہ ’’ان میں سے ہر ایک کی تمنا پوری ہوئی اور امید ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی تمنا بھی پوری ہوگئی ہوگی(یعنی ان کی بخشش ہوگئی ہوگی)۔‘‘  (۱)
(1934)…حضرتِ سیِّدُناامام زہری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس حدیث سننے کے لئے لوگ جمع ہوتے تھے۔ حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن دینار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار بیان کر تے ہیں کہ ہم حضرتِ سیِّدُنا عروہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ’’میرے پاس آیاکرو تو علم حاصل کیا کرو۔‘‘  (۲)
(1935)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن ابی زناد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’ہم کہا کرتے تھے کہ ہم کتابُ اللّٰہ (یعنی قرآن پاک) کے ہوتے ہوئے کوئی دوسری کتاب پاس نہیں رکھیں گے۔ چنانچہ، میں نے اپنی تمام تحریرات مٹادیں۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اب میں چاہتا ہوں کہ کاش! وہ تمام کتابیں میرے پاس ہوتیں کیونکہ قرآن مجید کے احکام ذہنوں میں پختہ اور مصاحف میں محفوظ ہوچکے ہیں (اب اس کے خلط ملط ہونے کا خطرہ ٹل گیاہے)۔‘‘  (۳)
(1936)…حضرتِ سیِّدُنا محمد بن ضحاک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیِّدُنا مصعب بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بیٹوں کا مال بطورِامانت حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بن عبیداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس رکھوایا، پھر انہیں خبر ملی کہ وہ اور ام طلحہ عائشہ بنت طلحہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہا ملک شام چلے گئے ہیں اور امانت کے مال سے گھر تعمیر کرنا، غلام، اونٹ اور بکریاں خریدنا شروع کر دیا ہے۔ چنانچہ، حضرتِ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۶۸۷، عروۃ بن زبیر، ج۴۰، ص۲۶۷۔
2…المرجع السابق، ص۲۵۶۔	3…المرجع السابق، ص۲۵۸۔