Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
277 - 603
 فضیلت عمر:
(1931)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنا ابی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام نے مجھ سے کہا کہ عمر کی موت پر اہل اسلام روئیں گے۔‘‘  (۱)
شرفِ امت:
(1932)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ دوجہان، محبوب ِ رحمن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ہر شے کے لئے کوئی نہ کوئی چیز عزت وشرف کا باعث ہوتی ہے جس کی وجہ سے لوگ باہم فخر کرتے ہیں میری امت کی رونق و شرف قرآن پاک ہے۔‘‘  (۲)
حضرت سیِّدُنا عُروہ بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
	حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر بن عوام رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ کی عادت کریمہ ایسی تھی کہ جب بھی کوئی چیز مانگی جاتی انکار نہ فرماتے، مشکل وقت میں بھی علم وعمل کی دعوت دیتے رہے، ساری زندگی اطاعت الٰہی میں گزاری، حصول ثواب کی نیت سے مختلف آزمایشوں پر ثابت قدم رہے۔ الغرض آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مجتہد، عبادت گزار اور صوم وصلاۃ کے پابند تھے۔
	علمائے تصوف فرماتے ہیں کہ احسانات کو پہچاننے اور مصائب وآلام کو چھپانے کا نام تصوُّف ہے۔
علم پھیلانے کا جذبہ:
(1933)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن ابی زناد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا مصعب بن زبیر، حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر، حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن زبیر اور حضرتِ سیِّدُناعبداللّٰہ بن عمر رِضْوَانُ اللّٰہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۶۱، ج۱، ص۶۸۔
2…تفسیرروح البیان، پ۲۵، الزخرف، تحت الایۃ:۴۴، ج۸، ص۳۷۳، بتغیرقلیل۔