سے ڈرتا ہے وہ قوت کے ساتھ زندگی گزارتا اور اپنے شہروں میں امن وسلامتی سے چلتا پھرتا ہے۔‘‘ (۱)
گھڑدوڑ میں شرط کی جائز صورت:
(1929)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ سرکارِمدینہ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو دو گھوڑوں کے درمیان گھوڑا داخل کرے جبکہ پیچھے رہ جانے سے امن میں نہ ہو تو وہ جوا نہیں (۲)۔‘‘ (۳)
خلق عظیم:
(1930)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرتِ سیِّدُنا عمار بن یاسر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبیوں کے سلطان، رحمت ِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’حسن خلق اللّٰہ عَزَّوَجَل کا عظیم خلق ہے۔‘‘ (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الفردوس بماثور الخطاب، الحدیث:۸۷۶۳، ج۳، ص۵۶۲، دارالکتب العلمیہ بیروت۔
2…مفسرشہیر،حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃالمناجیح ، جلد5، صفحہ475 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: زید اور عمر اپنے گھوڑے مقابلہ میں دوڑا رہے ہیں تو بکر نے بھی ان کے درمیان اپنا گھوڑا کھڑا کر دیا اور شرط یہ ٹھہری کہ اگر بکر کا گھوڑا نصب العین حد پر پہلے پہنچ گیا پھر زید و عمر کے گھوڑے ایک ساتھ یا آگے پیچھے وہاں پہنچے تو بکر ان دونوں سے سو سو روپیہ لے گا اور اگر زید و عمر کے گھوڑے ایک ساتھ وہاں پہلے پہنچ گئے پھر تیسرا گھوڑا بکر کا پہنچا تو کسی کو کچھ نہ ملے گا اور اگر زید و عمر کے گھوڑوں میں سے کسی کا گھوڑا پہلے پہنچ گیا پھر دوسرا گھوڑا بکر کے گھوڑے کے ساتھ یا آگے پیچھے پہنچے تو یہ اگلے گھوڑے والا یہ پوری رقم دو سو روپیہ پر قبضہ کر لے گا اور اگر بکر کا گھوڑا اور اس کے ساتھ پہلے گھوڑوں میں سے ایک گھوڑا ایک ساتھ پہلے پہنچے پھر ایک گھوڑا بعد میں پہنچا تو وہ دونوں اگلے گھوڑے والے اس رقم پر قبضہ کر لیں یہ جائز ہے اب جوا نہ رہا۔ (پیچھے رہ جانے سے امن میں نہ ہو تو وہ جوا نہیں) یعنی اگر تیسرے شخص بکر کو یقین ہے کہ میرا گھوڑا ان دونوں سے آگے نکلے گا کہ یہ تیز ہے وہ دونوں سست تو اس مال کا لینا بکر کو بہتر نہیںاور اگر مشکوک معاملہ ہوا تو مال اسے حلال ہے خلاصہ کلام یہ ہے کہ گھوڑ دوڑ میں دونوں فریقوں کا مالی شرط لگاناہار جیت مقرر کرنا جوا اور حرام ہے لیکن جب تیسرا آدمی ان میں اپنا گھوڑا شامل کردے جو مال نہ دے اور اسے اپنے اس گھوڑے کے جیتنے کا یقین بھی نہ ہو شک میں ہو کہ نامعلوم جیتے یا ہارے تو وہ دونوں فریق مالی ہار جیت طے کر سکتے ہیںاور وہ عمل جوا نہ رہے گا اس تیسرے گھوڑے کو شریعت میں محلل کہتے ہیں یعنی اس عمل یا اس مال کو حلال کرنے والا، اب جیت و ہار کی چار پانچ صورتیں ہو گئیں جو ابھی عرض کی گئیں۔
3…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الجھاد، باب السباق و الرھان، الحدیث:۶، ج۷، ص۷۱۴۔
4…المعجم الاوسط، الحدیث:۸۳۴۴، ج۶، ص۱۵۵۔