(13-1912)…حضرتِ سیِّدُناعبداللّٰہ بن قاسم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس جاکربیٹھ گیا انہوں نے فرمایا: ’’لوگوں کو میرے پاس بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے۔‘‘ میں نے کہا: ’’میں ایک اجنبی ومسافر ہوں۔‘‘ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’تب تو مجھے پسند ہے کہ میں تمہیں علم سکھاؤں۔‘‘ (۱)
نفس کی ذلت و رسوائی:
(1914)…حضرتِ سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی صحبت میں بیٹھنے کا ارادہ کرتا تو آپ فرماتے: ’’حکومتی کارندوں نے مجھے کوڑے لگائے ہیں اور لوگو ں کو میرے پاس بیٹھنے سے منع کیا ہے۔‘‘ (۲)
نسبت الٰہی کی تعظیم:
(1915)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن حرملہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’مصحف (یعنی قرآن پاک) کو (اسم تصغیر کے ساتھ) مُصَیْحَف اور مسجد کو مُسَیْجَد نہ کہو کیونکہ جس چیز کی نسبت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ہوجاتی ہے وہ عظیم الشان اور حسین وجمیل ہوجاتی ہے۔‘‘ (۳)
سیِّدُنا ا بن مسیب عَلَیْہِ الرَّحْمَہ کی عظمت وشان:
(1916)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن حرملہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ’’لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو جرأت کر کے حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کسی چیز کے متعلق سوال کرے جب تک کہ اجازت نہ لے لے جس طرح کسی حاکم وامیر سے اجازت طلب کی جاتی ہے۔‘‘ (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعرفۃ والتاریخ، اخبارسعید بن المسیب، ج۱، ص۲۵۵۔
2…سیر اعلام النبلائ، الرقم:۴۵۵، سعید بن المسیب، ج۵، ص۲۲۵۔
3…الطبقات الکبری، الرقم:۶۸۳، سعید بن المسیب، ج۵، ص۱۰۴۔
4…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۱۵۹، سعید بن المسیب، ج۲، ص۵۷۔