مجال نہ رہتی کہ اقرار کروا سکیں۔ تینوں حضرات نے کہا: ’’دوسری بات یہ ہے کہ آپ کچھ دنوں تک گھر میں ہی بیٹھے رہیں نماز کے لئے مسجد کی طر ف نہ جائیں کیونکہ جب آپ کو کسی مجلس درس میں تلاش کیا جائے گا اور آپ نہ ہوں گے تو آپ سے اعراض کیا جائے گا۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’میں حَیَّ عَلَی الصَّلٰوہ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاح سنتا ہوں لہٰذا میں ایسا نہیں کرسکتا۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’تیسری بات یہ ہے کہ آپ کہیں اور منتقل ہوجائیں کیونکہ جب آپ یہاں نہ ہوں گے تو آپ کو تنگ نہیں کیا جائے گا۔‘‘ فرمایا: ’’مخلوق کے ڈر سے میں ایک بالشت بھی اپنی جگہ سے آگے پیچھے نہیں ہوں گا۔‘‘ چنانچہ، سب مل کر نماز ظہر کے لئے مسجد تشریف لے گئے۔ حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بعد نماز اپنی مجلس درس میں تشریف فرما ہوگئے۔ نماز ظہر کے بعد والی ٔ مدینہ نے آپ کو بلایا، آپ کے آنے پر اس نے کہا: ’’خلیفہ نے خط لکھا ہے کہ بیعت سے انکار کی صورت میں آپ کو قتل کردیا جائے۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’حضور نبی ٔ پاک، صاحب ِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (بطور حکمران) ہمیں ایک وقت میں دو کی بیعت سے منع فرمایا ہے۔‘‘ والی ٔ مدینہ نے جب دیکھا کہ آپ بات نہیں ما ن رہے تو آپ کو کھلی جگہ لے جایاگیا، گردن کھینچی گئی، تلواریں سونت لی گئیں لیکن آپ اپنے موقف پر قائم رہے، کپڑے اتروا کر لنگوٹ پہنا دیا گیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’اگر معلوم ہوتا کہ مجھے قتل نہیں کیا جائے گا تو میں اسے ہرگز نہ پہنتا۔‘‘ چنانچہ، آپ کو 50کو ڑے مارے گئے اور مدینہ منورہ کے گلی کوچوں میں پھرایا گیااور اس وقت چھوڑا گیا جب لوگ عصر کی نماز پڑھ کر لوٹ رہے تھے۔ حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’یہ سب کچھ ان چہروں کی وجہ سے ہوا جن کی طرف میں نے 40سال سے نظر نہیں کی تھی۔‘‘
حضرتِ سیِّدُنامحمد بن قاسم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے شیخ کو حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی حدیث کو کئی سندوں کے ساتھ بیان کرتے سنا لیکن میں یاد نہ رکھ سکا۔‘‘ جب کوڑے مارنے کے لئے کپڑے اتروائے گئے تو ایک عورت نے کہا: ’’کوڑے مارنے کے لئے کپڑوں کا اتروانا تو رسوائی کا مقام ہے۔‘‘ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’ہم نے تو رسوائی کے مقام ہی سے راہ فرار اختیار کی ہے (یہ ذلت و رسوائی کا مقام نہیں ہے)۔‘‘ (۱)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…وفیات الاعیان، الرقم:۲۶۲، ابومحمد سعید بن المسیب، ج۲، ص۳۱۴-۳۱۵۔
المحن، ذکر ضرب تمیم الداری، ص۳۱۳۔