Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
270 - 603
 آپ کو قتل کیا جا رہا ہے لہٰذا آپ لنگوٹ پہن کر شرمگاہ کو ڈھانپ لیں۔ چنانچہ، انہوں نے اسے پہن لیا۔ جب کوڑے مارے گئے تو ہم نے کہا: ’’ہم نے آپ سے دھوکا کیا ہے؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’اے ایلہ کے جلدبازو! اگر مجھے قتل کئے جانے کا گمان نہ ہوتا تو میں کبھی اسے نہ پہنتا۔‘‘  (۱)
(10-1909)…حضرتِ سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو لنگوٹ پہنا کر دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا، میں ان کے پاس آیا تو میں نے اپنے قائد سے کہا: ’’مجھے ان کے قریب کردو۔‘‘ اس نے مجھے ان کے قریب کر دیا۔ چنانچہ، اس خوف سے کہ کہیں یہ مجھ سے جدائی اختیار (یعنی سزا کے باعث وصال) نہ کرجائیں میں ان سے سوال کرنے لگا اور آپ تسلی سے مجھے جواب دینے لگے لوگ یہ دیکھ کر متعجب ہورہے تھے۔  (۲)
(1911)…مروی ہے کہ والی ٔ مدینہ نے خلیفہ عبدالملک بن مروان کو خط لکھاکہ ’’حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے علاوہ تمام اہل مدینہ نے ولید اور سلیمان کی بیعت پر اتفاق کرلیا ہے۔‘‘ عبدالملک نے جواباً لکھا: ’’تلوار کے زور سے ان سے بیعت لو اگر بیعت کرلیں تو ٹھیک ورنہ 50کوڑے لگواؤ اور مدینہ منورہ کے گلی کوچوں میں چکر لگواؤ۔‘‘ جب عبدالملک کا یہ خط والی ٔ مدینہ کے پاس پہنچا تو حضرتِ سیِّدُنا سلیمان بن یسار، حضرتِ سیِّدُنا عروہ بن زبیر اور حضرتِ سیِّدُنا سالم بن عبداللّٰہ رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس آئے اور کہا: ’’خلیفہ عبدالملک بن مروان کا آپ کے متعلق والی ٔ مدینہ کے نام پیغام ہے کہ اگر آپ بیعت سے انکار کریں تو آپ کو قتل کر دیا جائے، لہٰذا ہم آپ کے سامنے تین باتیں پیش کرتے ہیں، ان میں سے کوئی ایک مان لیں۔ والی ٔ مدینہ نے یہ بات مان لی ہے کہ جب آپ کے سامنے عبداملک کا خط پڑھ کر سنایا جائے تو آپ خاموش رہیں نہ بیعت سے انکار کریں نہ اقرار۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’یوں تو لوگوں میں مشہور ہوجائے گا کہ سعید بن مسیب نے بیعت کرلی ہے، لہٰذا میں ایسا نہیں کروں گا۔‘‘
	راوی کا بیان ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جب کسی چیز کا انکار کردیتے تو لوگوں میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۲۳۰۷، زہد عبید بن عمیر، ص۳۸۴-۳۸۵۔
2 …سیر اعلام النبلاء، الرقم:۴۵۵، سعید بن المسیب، ج۵، ص۲۲۴۔