Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
269 - 603
 کمرے میں وہ ہوں اس کے) ایک دروازے سے داخل ہوکر دوسرے سے نکل جائیں (یوں مشہور ہوجائے گا کہ آپ نے بیعت کرلی ہے) آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’بخدا! لوگوں میں سے کو ئی بھی میری اقتدا نہیں کرے گا۔‘‘ بیعت نہ کرنے کی وجہ سے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو لنگوٹ پہنا کر 100کوڑے لگائے گئے۔  (۱)
(1908)…مروی ہے کہ عبدالملک بن مروان کے بعد ولید اور سلیمان کی بیعت کی دعوت دی گئی تو حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن عبدالقاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی نے حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا: ’’میں آپ کو تین باتوں کا مشورہ دیتا ہوں۔‘‘ آپ نے کہا: ’’کیا مشورہ دیتے ہو؟‘‘ کہا: ’’ا پنا ٹھکانا بدل لیں کیونکہ آپ گورنر ہشام بن اسماعیل کی نگاہ میں ہیں۔‘‘ آپ نے کہا: ’’میں جہاں 40سال سے قیام پذیر ہوں وہاں سے ہرگز نہ جاؤں گا۔‘‘ کہا: ’’پھر عمرہ کی غرض سے یہاں سے چلے جائیے۔‘‘ فرمایا: ’’جس کام کی نیت نہیں اس میں اپنا مال کیوں خرچ کروں اور اپنی جان کیوں کھپاؤں؟‘‘ کہا: ’’پھر بیعت کرلیں۔‘‘ ّ(حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عبدالقاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی چونکہ نابینا تھے لہٰذا) حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’جس طرح اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں بصارت سے محروم رکھا اسی طرح بصیرت سے بھی محروم کر دیا ہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟‘‘
	راوی کا بیان ہے کہ گورنر ہشام بن اسماعیل نے حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بیعت کے لئے بلایا تو آپ نے بیعت سے انکار کردیا ہشام نے عبدالملک کو خط لکھ کر معاملے سے آگاہ کیا تو عبدالملک نے جواباً لکھا کہ ’’تمہیں سعید سے کیا مطلب ہمیں ان کی طرف سے کسی ناپسندیدہ چیز کا خطرہ نہیں ہے، اب تم انہیں بیعت کی دعوت دو (اور وہ انکار کردیں تو) لوگوں کو سبق سکھانے کے لئے انہیں لنگوٹ پہنا کر 30کوڑے لگا ؤ تاکہ لوگ ان کی اقتدا سے باز رہیں(اور بیعت کرلیں)۔‘‘چنانچہ، ہشام نے حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بلاکر بیعت کرنے کا کہا تو آپ نے انکار کردیا اور فرمایا: ’’میں ان کی بیعت نہیں کروں گا۔‘‘ لہٰذا لنگوٹ پہنا کر آپ کو 30کوڑے لگائے گئے۔‘‘
	راوی بیان کرتے ہیں کہ مجھے ان ایلیوں نے بتایا جو مدینہ منورہ زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفاً وَّتَعْظِیْمًا میں سپاہی تھے کہ ہمیں معلوم تھا حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بخوشی لنگوٹ پہننے پر رضا مند نہ ہوں گے، ہم نے کہا: اے ابومحمد!
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۲۲۵۸، زہد عبید بن عمیر، ص۳۷۹۔