آئے۔ دربان نے پاس آکر کہا: ’’میں نے آپ کو اشارے سے بلایا آپ پھر بھی نہ آئے۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’اپنی حاجت بیان کرو۔‘‘ دربان نے کہا: ’’خلیفہ عبدالملک بن مروان کو نیند نہیں آرہی انہوں نے مجھے کہا ہے کہ میں مسجد میں جاکر کسی قصہ گو کو لے آؤں۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’میں قصہ گو نہیں ہوں۔‘‘ دربان چلاگیا اور خلیفہ کو بتا یا کہ مسجد میں صرف ایک بوڑھا شخص ہے میں نے اسے اشارہ کیا لیکن وہ متوجہ نہ ہوا میں نے اس سے کہا کہ خلیفہ کو نیند نہیں آرہی انہوں نے مجھے کسی قصہ گو کو بلانے کے لئے بھیجا ہے، اس نے کہا: ’’میں قصہ گو نہیں ہوں۔‘‘ اس پر عبدالملک بن مروان نے کہا: ’’وہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَــیْہ ہیں انہیں چھوڑدو۔‘‘ (۱)
دنیا سے بھی زیادہ حقیر:
(1905)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’دنیا حقیر ہے اور ہر حقیر چیز کی طرف مائل ہونے والی ہے اور اس سے بھی زیادہ حقیر وہ ہے جو ناحق اور بغیر کسی وجہ سے اس کا طالب ہو پھر اسے ناحق راستے میں خرچ کرے۔‘‘ (۲)
(1906)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعیسیٰ خراسانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’ظالموں کے مددگار کبھی آنکھوں کو بھا بھی جائیں تو پھر بھی دلی طور پر ان سے نفرت کرنا تاکہ تمہارے نیک اعمال برباد نہ ہوں۔‘‘ (۳)
ثابت قدمی:
(1907)…حضرت سیِّدُنا عمران بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان کے بعد حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ولید اور سلیمان کی بیعت کی دعوت دی گئی تو آپ نے فرمایا: ’’جب تک دن رات باقی ہیں میں کبھی بھی ان دونوں کی بیعت نہیں کروں گا۔‘‘ آپ سے عرض کی گئی: ’’(صرف اتنا کریں جس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۲۲۶۰، زہد عبید بن عمیر، ص۳۷۹۔
2…البدایۃ والنہایۃ، احداث سنۃ اربع وتسعین، سعید بن المسیب، ج۶، ص۲۲۶، باختصار۔
3…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۱۵۹، سعید بن المسیب، ج۲، ص۵۷۔