کہا: ’’تم ہلاک ہو حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آج اپنی بیٹی کا مجھ سے نکاح کردیا اور اسے خاموشی سے میرے پاس چھوڑ گئے ہیں۔‘‘ لوگوں نے پوچھا: ’’انہوں نے اپنی بیٹی کاتجھ سے نکاح کیا ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’ہاں!‘‘ چنانچہ، پڑوسی اسے دیکھنے کے لئے میرے گھر آئے، یہ بات میری والدہ کو معلوم ہوئی تو وہ بھی تشریف لائیں اور کہا: ’’تم اسے تین دن تک ہاتھ مت لگانا یہا ں تک کہ دستور کے مطابق میں اسے خوب بناؤسنگار نہ کردوں۔‘‘ چنانچہ، میں ٹھہرارہا، تین دن بعد جب اس کے پاس گیا تو اسے تمام لوگوں سے زیادہ حسین وجمیل پایا، وہ حافظ قرآن اور سنت رسول کی عالمہ اور خاوند کے حقوق سے باخوبی واقف تھی۔ پھر تقریباً ایک ماہ تک نہ تو حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میرے پاس تشریف لائے اور نہ ہی میں ان کی خدمت میں حاضر ہوسکا۔ ایک ماہ گزرنے کے بعد میں ان کے حلقۂ درس میں حاضر ہوا سلام کیا انہوں نے جواب دیا اس کے علاوہ کوئی بات نہ کی، جب اہل درس منتشر ہوگئے اور ان کے پاس میرے علاوہ کوئی نہ تھا تو انہوں نے اپنی بیٹی کے بارے میں پوچھا میں نے کہا: ’’خیر وعافیت سے ہے اور اس حال میں ہے جسے دوست پسند کرتے اور دشمن رنجیدہ ہوتے ہیں۔‘‘ فرمایا: ’’اگر تمہیں کسی قسم کی نافرمانی کا اندیشہ ہو تو یہ عصا ساتھ لیتے جانا۔‘‘ جب میں گھر لوٹا تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے میری طر ف 20 ہزار درہم بھجوائے۔
حضرتِ سیِّدُناعبداللّٰہ بن سلیمان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان بیان کرتے ہیں کہ جب عبدالملک بن مروان کوحکمرانی ملی تو اس نے اپنے بیٹے ولید بن عبدالملک کے لئے حضرتِ سیِّدُنا سعیب بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی صاحبزادی کے نکاح کا پیغام بھجوایا لیکن آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انکار کردیا۔ عبدالملک بن مروان مسلسل دبا ؤ ڈالتا رہا حتی کہ سخت سردی کے دن اس نے آپ کو لنگوٹ پہنا کر 100کوڑے لگوائے اور آپ پر ٹھنڈا پانی بہایا ( لیکن آپ اپنی بات پر قائم رہے)۔ حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ’’(حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے داماد) ابن ابی وداعہ سے کثیر بن عبدالمطلب بن ابی وداعہ مراد ہیں۔‘‘ (۱)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الطبقات الکبری، الرقم:۶۸۳، سعید بن المسیب، ج۵، ص۱۰۴۔
سیر اعلام النبلاء، الرقم:۴۵۵، سعید بن المسیب، ج۵، ص۲۲۵-۲۲۶۔
وفیات الاعیان، الرقم:۲۶۲، ابو محمد سعید بن المسیب، ج۲، ص۳۱۴۔