Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
265 - 603
 آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پوچھا: ’’اتنے دن کہاں تھے؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’میری زوجہ کا انتقال ہوگیا تھا اس وجہ سے چند دن مصروف رہا۔‘‘ فرمایا: ’’مجھے اطلاع کردیتے تاکہ میں بھی جنازے میں شریک ہوجاتا۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ابن ابی وداعہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے ان کی مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے پوچھا: ’’کیا تم نے کسی اور عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے! کون سی عورت مجھ سے نکاح کرے گی جبکہ میری ملکیت میں صرف دو یا تین درہم ہیں۔‘‘حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’میں تمہارا نکاح کرادیتا ہوں۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’کیا آپ کرادیں گے؟‘‘ فرمایا: ’’ہاں!‘‘ چنانچہ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد وثنا کی اور حضور نبی ٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود وسلام کے گجرے نچھاور کئے اور دو یا تین درہم مہر کے عوض اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کردیا۔ میں وہاں سے اٹھا تو خوشی کے مارے پھولے نہیں سمارہا تھا اور سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ کیا کروں۔ چنانچہ، گھر کی راہ لی اور سوچنے لگا کہ کس سے قرض لوں تاکہ رخصتی کا بندوبست ہوسکے۔ مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد آرام کی غرض سے گھر لوٹا، میں روزے سے بھی تھا، شام کے کھانے کی طرف بڑھا جو روٹی اور زیتون کے تیل پر مشتمل تھا۔ آچانک کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے پوچھا: ’’کون؟‘‘ کہا: ’’سعید۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے علاوہ جتنے بھی سعید نام کے افراد کو میں جانتا تھا ان کے متعلق سوچنے لگا (کہ ان میں سے کوئی ہوگا) کیونکہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو 40سال سے صرف گھر سے مسجد تک تشریف لے جاتے دیکھا تھا (اس کے علاوہ کہیں جاتے نہ دیکھا)۔ چنانچہ،
	میں نے درروازہ کھول کر دیکھا تو وہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تھے، میں نے سوچا کہ شاید انہیں مجھ سے کوئی کام ہے ۔ میں نے عرض کی: ’’اے ابومحمد! پیغام بھیج دیتے میں خود حاضر ہوجاتا۔‘‘ فرمایا: ’’تم زیادہ حق رکھتے ہو کہ تمہارے پاس آیا جائے۔‘‘ میں نے کہا: ’’ارشاد فرمایئے! (کیا حکم ہے؟)‘‘ فرمایا: ’’تم تنہا تھے میں نے تمہارا نکاح کرایا تو اس بات کو ناپسند جانا کہ تم تنہا رات گزارو، یہ تمہاری زوجہ ہے۔‘‘ چنانچہ، انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر داخل کیا اور وہیں سے لوٹ گئے، حیا کی وجہ سے میری زوجہ گر پڑیں میں نے دروازہ بند کیا اور زوجہ کو لئے اس پیالے کی طر ف بڑھا جس میں زیتون اور روٹی تھی، اسے میں نے چراغ سے بچا کر اندھیرے میں رکھا تھا تاکہ دکھائی نہ دے، پھر میں نے چھت پر چڑھ کر پڑوسیوں کو آواز دی، وہ میرے پا س آئے اور بلانے کا سبب پوچھا تو میں نے