بد اعمالیوں کی وجہ سے) رسوا کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے حفظ وامان سے نکال دیتا ہے جس کی وجہ سے اس کے پوشیدہ عیوب ظاہر ہوجاتے ہیں۔‘‘
(1897)…حضرتِ سیِّدُنا علی بن زید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا: ’’کچھ لوگوں کا گمان ہے آپ نے منت مانی ہے کہ جونہی بیتُ اللّٰہ شریف پر نگاہ پڑے گی تو بنی مروان کے خلاف دعا کریں گے۔ اس بات نے آپ کو حج سے روک رکھا ہے؟‘‘ فرمایا: ’’میں نے ایسا تو نہیں کہا، البتہ میں نے جب بھی نماز پڑھی ان کے خلاف دعا کی ہے او رمیں نے20 سے زیادہ حج وعمرے کئے ہیں حالانکہ مجھ پر زندگی میں صرف ایک حج فرض تھا۔‘‘ (۱)
(1898)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن حرملہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کبھی بھی حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو کسی حکمران کو گالی دیتے نہیں سنا صرف اتنا کہتے سنا کہ فلاں پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی مار پڑے کہ وہ پہلا شخص ہے جس نے حضور نبی ٔکریم، رَء ُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فیصلے کو تبدیل کیا حالانکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بچہ صاحب ِفراش (یعنی خاوند) کا جب کہ زانی کے لئے پتھر ہیں۔‘‘ (۲)
(1899)…حضرتِ سیِّدُنا عمران بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ’’حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کسی بھی شخص سے نہ درہم ودینار قبول فرماتے اور نہ ہی کوئی اور چیز، بعض اوقات آپ کے سامنے مختلف مشروبات پیش کئے جاتے لیکن آپ اعراض فرماتے اور کسی کے مشرو ب سے کچھ بھی نہ پیتے۔‘‘ (۳)
بنت ِ اِبنِ سعید کا نکاح:
(1-1900)…حضرتِ سیِّدُنا ابن ابی وداعہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی صحبت میں بیٹھا کرتا تھا، ایک بار چند دن غائب رہنے کے بعد جب خدمت میں حاضر ہوا تو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۶۸۳، سعید بن المسیب، ج۵، ص۹۷، بتغیر قلیل۔
2…صحیح البخاری، کتاب الحدود، باب لعاھرالحجر، الحدیث:۶۸۱۸، ج۴، ص۳۴۰، عن ابی ھریرۃ۔
سیر اعلام النبلاء، الرقم:۴۵۵، سعید بن المسیب، ج۵، ص۲۲۹۔
3…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۶۸۳، سعید بن المسیب، ج۵، ص۱۰۲، بتغیر۔
سیر اعلام النبلاء، الرقم:۴۵۵، سعید بن المسیب، ج۵، ص۲۲۹، باختصار۔