حاضر ہوجاؤں اور وہ میرے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے۔‘‘ (۱)
(1892)…حضرتِ سیِّدُنا مالک بن انس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے غلام سے دو تہائی درہم کے بارے میں جھگڑ رہے تھے، اسی دوران ان کے چچازاد بھائی نے 4ہزار درہم ان کی خدمت میں پیش کئے لیکن انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔‘‘ (۲)
سب سے بڑا فتنہ:
(95-94-1893)…حضرتِ سیِّدُنا علی بن زید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’جب شیطان کسی چیز سے مایوس ہوجاتا ہے تو پھر عورتوں کے ذریعے حملہ آور ہوتا ہے۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عمر 84 سال، ایک روایت کے مطابق 80سال تھی ۔ ایک آنکھ کی بینائی گل ہو چکی تھی اور دوسری آنکھ سے بھی کم دکھائی دیتا تھا اس وقت انہوں نے ہمیں بتایا کہ ’’مجھے عورتوں سے زیادہ کسی چیز کا خوف نہیں۔‘‘ (۳)
پستی و بلندی کا سبب:
(1896)…حضرتِ سیِّدُنا عبیداللّٰہ بن عبدالرحمن عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فرماتے سنا کہ ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا دست قدرت بندوں پر سایہ فگن ہوتا ہے۔ جو شخص تکبر کرتا ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے پست کردیتا ہے اور جو عاجزی وانکساری اپناتا ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے بلند ی عطا فرماتا ہے۔ سب لوگ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حفظ وامان میں اپنے اپنے اعمال سرانجام دے رہے ہیں جب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کسی بندے کو (اس کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہدلابی داود، الحدیث:۴۲۰، زہد سعید بن المسیب، ص۳۴۳۔
الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۶۸۳، سعید بن المسیب، ج۵، ص۹۷۔
وفیات الاعیان، الرقم:۲۶۲، ابو محمد سعید بن المسیب، ج۲، ص۳۱۳۔
2…الزہدلابی داود، الحدیث:۴۲۲، زہد سعید بن المسیب، ص۳۴۵، بتغیر۔
3… تاریخ بغداد، الرقم:۵۶۴،محمد بن جعفر بن محمد، ج۲، ص۱۴۵۔
شعب الایمان، باب فی تحریم الفروج…الخ، الحدیث:۵۴۵۲، ج۴، ص۳۷۴۔