ور پھر کبھی بھی قصداً گناہ کا ارتکاب نہ کرے۔‘‘ (۱)
شیطان کے غیظ وغضب کا باعث:
(1890)…حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد بیان کرتے ہیں کہ ایک بار ہم حضرت سیِّدُنا نافع بن جبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عیادت کے لئے گئے ان کی اُمِّ ولد(۲) نے بتا یا کہ ’’انہوں نے تین دن سے کچھ نہیںکھایا، آپ ان سے کہیں کہ یہ کچھ کھا لیں۔‘‘ چنانچہ، حضرت سیِّدُنا نافع بن جبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا: ’’اے سعید! جب تک آپ زندہ ہیں اہل دنیا میں سے ہیں اور دنیا والوں کے لئے اس چیز کا استعمال ضروری ہے جو انہیں تندرست رکھے، لہٰذا کچھ کھالیں۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’بھلا وہ شخص کہ جس کی مجھ جیسی حالت ہو اور تھوڑی ہی دیر بعد اسے جنت یا جہنم کی طرف لے جایا جانا ہو وہ کیسے کچھ کھا سکتا ہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا نافع بن جبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کہا: ’’آپ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا فرمائیں کہ وہ آپ کو شفا عطا فرمائے کیونکہ آپ کے سجدہ گاہ کا مقام شیطان کے غیظ وغضب کا باعث ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھے دنیا سے سلامتی کے ساتھ لے جائے۔‘‘ (۳)
مال و دولت سے بے رغبتی:
(1891)…حضرتِ سیِّدُنا عمران بن عبداللّٰہ بن طلحہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوبلاکر 30ہزار سے زائد رقم پیش کی گئی کہ اسے قبول فرما لیں۔ لیکن آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’نہ تو مجھے اس کی کوئی حاجت ہے اور نہ بنی مروان کو یہاں تک کہ میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… شعب الایمان، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ، الحدیث:۷۰۹۵، ج۵، ص۴۰۸۔
2…دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃالمدینہ کی مطبوعہ 1182صفحات پرمشتمل کتاب بہارِ شریعت جلد دوم ، صفحہ294 پر صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدْرُالطَّرِیْقَہ، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں کہ ام ولد اوس لونڈی کو کہتے ہیں جس کے بچہ پیدا ہوا اور مولیٰ (آقا) نے اقرار کیا کہ یہ میرا بچہ ہے خواہ بچہ پیدا ہونے کے بعد اوس نے اقرار کیا یا زمانہ حمل میں اقرار کیا ہو کہ یہ حمل مجھ سے ہے اور اس صورت میں ضروری ہے کہ اقرار کے وقت سے چھ مہینے کے اندر بچہ پیدا ہو۔
3…الزہدلابی داود، الحدیث:۴۲۸، زہد سعید بن المسیب، ص۳۴۹، باختصار۔