Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
261 - 603
 کہہ رہا تھا کہ ’’اس کے لئے مغفرت کی دعا کرو۔‘‘ حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے (اپنے پاس موجود لوگوں سے) فرمایا: ’’تم اس بات کے گواہ ہوجاؤ کہ میرے چاہنے والوں پر حرام ہے کہ اس میت پر رجز پڑھنے والے کی طرح میری میت پر رجز پڑھ رہے ہوں اور کہہ رہے ہوں کہ سعید کا انتقال ہوگیا ہے۔ میرے لئے وہی کافی ہے جو مجھے میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں لے جائے گا اور ان پر یہ بھی حرام ہے کہ میرے جنازے کے ساتھ دھونی دار خوشبو لے کر چلیں تاکہ میں معطر ہوجاؤں (مجھے ان کی خوشبو کی کچھ حاجت نہیں) کیونکہ قربِ الٰہی کی خوشبو تمام خوشبوؤں سے بہتر ہے۔‘‘  (۱)
حجاج بن یوسف کی اصلاح:
(1888)…حضرتِ سیِّدُنا علی بن زید بن جدعان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے عرض کی گئی: ’’کیا وجہ ہے کہ حجاج بن یوسف نہ تو آپ کی طرف کوئی پیغام بھیجتا ہے، نہ (کسی کام پر) برانگیختہ کرتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی تکلیف دیتا ہے؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! مجھے نہیں معلوم۔ ہاں! اتنا ضرور ہے کہ ایک دن وہ اپنے باپ کے ساتھ اس طرح نماز پڑھ رہا تھا کہ نہ رکوع مکمل کرتا نہ سجدہ، میں نے مٹھی بھر کنکریاں لیں اور اسے دے ماریں۔‘‘ حجاج بن یوسف کہتا ہے کہ ’’اس کے بعد سے میں عمدگی کے ساتھ نماز پڑھنے لگا۔‘‘  (۲)
اوّاب کی تعریف:
(1889)…حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن سعید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس فرمانِ باری تعالیٰ: فَاِنَّہٗ کَانَ لِلۡاَوَّابِیۡنَ غَفُوۡرًا ﴿۲۵﴾    (پ۱۵، بنی اسرائیل:۲۵)
ترجمۂ کنزالایمان: توبے شک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔
	کی تفسیر میں فرمایا: ’’اوّاب اسے کہتے ہیں جو گناہ سرزد ہونے کے بعد توبہ کرلے پھر گناہ کربیٹھے پھر توبہ کرلے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۶۸۳، سعید بن المسیب، ج۵، ص۱۰۷-۱۰۸۔
2…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۶۸۳، سعید بن المسیب، ج۵، ص۹۷۔