(1874)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے آزاد کردہ غلام حضرتِ سیِّدُنا بُرْد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ’’40سال سے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اذان کے وقت حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مسجد میں نہ ہوں۔‘‘ (۱)
(1875)…حضرتِ سیِّدُنا اسماعیل بن امیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’نماز کا وقت شروع ہوتا ہے تو میں نماز کی تیاری میں مشغول ہوجاتا ہوں اور فرض نماز کی ادائیگی کے وقت سے پہلے ہی میں شدت سے اس کا مشتاق ہوتا ہوں۔‘‘
(1876)…حضرتِ سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’میں نے20سال سے ایسے لوگوں کی گدِّی (گردن کے پچھلے حصے) پر نظر نہیں کی جو نماز میں مجھ پر سبقت لے گئے ہوں (یعنی ہمیشہ سب سے پہلے مسجد میں حاضر ہوتا)۔‘‘ (۲)
(1877)…حضرتِ سیِّدُنا امام اوزاعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ’’حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوایک ایسی فضیلت حاصل ہے جو میری معلومات کے مطابق تابعین میں سے کسی کوحاصل نہیں (اور وہ یہ ہے کہ) 40سال سے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی کبھی جماعت فوت نہیں ہوئی اور 20سال سے لوگوں کی گدی پر نظر نہیں پڑی (یعنی ہمیشہ سب سے پہلے مسجد میں حاضر ہوتے)۔‘‘ (۳)
50سال عشا کے وضو سے فجرکی نماز:
(1878)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالمنعم بن ادریس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ’’حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے 50سال تک عشا کے وضو سے فجر کی نماز ادا کی۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خود فرماتے ہیں کہ ’’50سال سے کبھی میری تکبیر اولیٰ فوت نہیں ہوئی۔ نیز 50سال سے دوران نماز کبھی کسی شخص کی گدی پر میری نظر نہیں پڑی (یعنی ہمیشہ پہلی صف میں نماز ادا کی)۔‘‘ (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۱۵۹، سعید بن المسیب، ج۲، ص۵۷۔
2…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۲۲۵۵، زہد عبید بن عمیر، ص۳۷۹، بتغیر۔ 3…المرجع السابق۔
4…وفیات الاعیان، الرقم:۲۶۲، ابو محمد سعید بن المسیب، ج۲، ص۳۱۳۔