Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
257 - 603
رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’جو شخص پانچوں نمازیں باجماعت پابندی کے ساتھ ادا کرتا رہا یقینا اس نے خشکی وتری کو عبادت سے بھردیا۔‘‘  (۱)
باجماعت نماز کی فکر:
(1870)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن حرملہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی آنکھوں میں کچھ تکلیف ہوئی تو ان سے عرض کی گئی: ’’اے ابومحمد! اگر آپ عقیق کی جانب تشریف لے جائیں، سبزہ زار کو دیکھیں اور قدرتی ہوا سے لطف اندوز ہوں تو آپ کو ضرور کچھ نہ کچھ فائدہ ہوگا۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’(اگر میں چلا گیا تو) عشا وفجر کی نماز میں حاضر کیسے ہو سکوں گا۔‘‘  (۲)
نمازی ہو تو ایسا:
(1871)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن حرملہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’40سال سے میرا یہ معمول ہے کہ کبھی میری جماعت فوت نہیں ہوئی۔‘‘  (۳)
(1872)…حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن حکیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْکَرِیْم بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب  رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو فرماتے سنا کہ ’’30سال سے میرا یہ معمول ہے کہ میں اذان سے پہلے ہی مسجد میں ہوتا ہوں۔‘‘  (۴)
(1873)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان سے مروی ہے کہ ’’40سال سے حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کبھی لوگوں سے اس حال میں ملاقات نہیںکی کہ لوگ نماز ادا کرکے مسجد سے نکل رہے ہوں (اور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نماز کے لئے جارہے ہوں بلکہ سب سے پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے اور سب سے آخر میں نکلتے)۔‘‘  (۵)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…قوت القلوب، الفصل الخامس عشر فی ذکر ورد العبد…الخ، ج۱، ص۸۰۔
2…شعب الایمان، باب فی الصلوات، الحدیث:۲۹۲۸، ج۳، ص۷۸۔
3…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۶۸۳، سعید بن المسیب، ج۵، ص۹۹۔
4…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۲۲۵۶، زہد عبید بن عمیر، ص۳۷۹۔
5…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۶۸۳، سعید بن المسیب،ج۵، ص۹۹۔
	شعب الایمان، باب فی الصلوات، الحدیث:۲۹۲۴، ج۳، ص۷۷۔