حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیّب رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
پورا نام ابومحمد سعید بن مسیب بن حزن مخزومی ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں مختلف آزمایشوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کی۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عبادت گزار، پابند ِ جماعت، پارسائی اور قناعت پسندی جیسی عمدہ صفات سے متصف تھے۔ نیز اپنے نام (سعید) کی طرح اطاعت وفرمانبرداری میں بھی سعید (یعنی کامیاب وخوش بخت) تھے اور نافرمانی و جہالت سے کوسوں دور تھے۔
علمائے تصوُّف فرماتے ہیں کہ خدمت کوسعادت سمجھنے اور محرمات سے خود کو بچانے کانام تصوُّف ہے۔
حقیقی عبادت:
(1867)…حضرتِ سیِّدُنا بکر بن خنیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے عرض کی: ’’اے ابومحمد! آپ ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں جو نماز کے پابند اور خوب عبادت گزار ہیں آپ ان کے ساتھ عبادت کیوں نہیں کرتے؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’اے بھتیجے! (جسے تم عبادت سمجھتے ہو) یہ عبادت نہیں ہے۔‘‘ میں نے عرض کی: ’’پھر عبادت کیا ہے؟‘‘ فرمایا: ’’(حقیقی عبادت ) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے احکامات میں غور وفکر کرنا، اس کی حرام کردہ اشیاء سے بچنا اور فرائض کو پابندی سے ادا کرنا ہے۔‘‘ (۱)
(1868)…حضرتِ سیِّدُنا صالح بن محمد بن زائدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ قبیلہ بنولیث کے چند نوجوان سخت گرمی کے دنوں میں دوپہر کے وقت مسجد آتے اور عصر تک عبادت میں مصروف رہتے۔ فرماتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا کہ ’’عبادت اسی کو کہتے ہیں۔ کاش! ہم میں بھی ان نوجوانوں جیسی طاقت و قوت ہوتی تو ہم بھی ان کی طرح عبادت کرتے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’عبادت یہ نہیں بلکہ عبادت تو دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنا اور احکاماتِ خداوندی میں غور وفکر کرنا ہے۔‘‘
(1869)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن حرملہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا سعید بن مسیب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد الکبیر للبیھقی، الجزء الرابع، الحدیث:۸۳۰، ص۳۱۲، باختصار۔