Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
255 - 603
طبقۂ اھل مدینہ
	حضرتِ سیِّدُنا شیخ حافظ ابونُعَیم احمد بن عبداللّٰہ اصفہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ مشہور تابعین کے تذکرے کے بعد اب ہم طبقۂ اہل مدینہ کے تابعین کا ذکر خیر کرتے ہیں۔ یہ وہ حضرات ہیں کہ جن پر تَفقُّہ فی الدین کا غلبہ تھا اور یہی چیز ان کی معرفت کا سبب بنی ۔ مشکل مسائل پیش آنے کی صورت میں لوگ ان کے فتاویٰ جات سے مدد لیتے تھے۔ ان حضرات کو عبادت وپرہیزگاری سے وافر حصہ عطا ہوا لیکن انہوں نے اپنی عبادت وریاضت کا ڈھنڈورا نہ پیٹا بلکہ حتی الامکان اسے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی۔ حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب، حضرت سیِّدُنا عروہ بن زیبر، حضرت سیِّدُنا قاسم بن محمد بن ابی بکر، حضرت سیِّدُنا ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث، حضرت سیِّدُنا خارجہ بن زید بن ثابت، حضرت سیِّدُنا عبیداللّٰہ بن عبداللّٰہ بن عتبہ اور حضرت سیِّدُنا سلیمان بن یسار رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِم اَجْمَعِیْن انہی خوش نصیبوں میں سے ہیں اور انہی کو فقہائے سبعہ (۱)   کہا جاتا ہے۔ زہد وتقویٰ کے اعتبار سے عبادت میں شہرت حاصل کرنے والوں پر انہیں فوقیت حاصل تھی۔ ان کا ذکر خیر ہم اس طرح کریں گے کہ ان کے اقوال واحوال اور ان کی سند سے مروی احادیث بیان کریں گے تاکہ ہدایت ومعرفت کا طلبگار شخص عبادت وریاضت میں ان کے نقش قدم پر چل سکے۔
تُوْبُوْااِلَی اللّٰہ!		اَسْتَغْفِرُاللّٰہ

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!			صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مجد ِد دین وملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن حَیَاتُ الْحَیْوَان کے حوالے سے لکھتے ہیںکہ امام دمیری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی نے بعض اہل خیر سے روایت کیا: اِنَّ اَ سْمَائَ الْفُقَہَائِ السَّبْعَۃِ الَّذِیْنَ کَانُوْا بِالْمَدِیْنَۃِ الشَّرِیْفَۃِ اِذَا کُتِبَتْ فِیْ رُقْعَۃٍ وَّجُعِلَتْ فِی الْقَمْحِ فَاِنْہُ لَایَسُوْسُ مَادَامَتِ الرُّقْعَۃُ فِیْہِ یعنی مدینہ طیبہ کے ساتوں فقہائے کرام کے اسمائے طیبہ اگر ایک پرچہ میں لکھ کر گیہوں میں رکھ دیا جائے تو جب تک وہ پرچہ رہے گا گیہوں کو گھن نہ لگے گا۔ اسی (یعنی حَیَاتُ الْحَیْوَان) میں بعض اہل تحقیق سے روایت کیا: اِنَّ اَسْمَائَ ہُمْ اِذَا کُتِبَتْ وَعُلِّقَتْ عَلَی الرَّاْسِ اَ وْ ذُکِرَتْ عَلَیْہِمْ اَزَالَتِ الصُّدَاعَ (یعنی:) ان فقہائے کرام کے نام لکھ کر سر پر رکھے جائیں یا پڑھ کر سر پر دم کیے جائیں تو درد سر کھو دیتے ہیں۔ (فتاویٰ افریقہ، ص۱۷۳، نوری کتب خانہ لاہور پاکستان)