Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
254 - 603
میں دو زبانیں ہوں گی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بروزِقیامت اس کی آگ کی دو زبانیں بنادے گا (۱)۔‘‘  (۲)
تین چیزوں کا خوف:
(1865)…حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ حسن اخلاق کے پیکر ، محبوب رب اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مجھے اپنی امت پر تین ہلاکت خیز چیزوں کا خوف ہے: (۱)…بخل کی اطا عت (۲)…خواہشات کی پیروی (۳)…ہر صاحب ِ رائے کا اپنی رائے پر فخر وتکبر کرنا۔‘‘  (۳)
دل کانوراوردل کی سیاہی:
(1866)…حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ والا تبار ، ہم بے کسوں کے مدد گار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’میں نے نیکی کو دل کا نور، چہرے کی زینت اور عمل میں قوت کا باعث پایا جبکہ برائی کو دل کی سیاہی، چہرے کا عیب اور عمل میں سستی کا سبب پایا ہے۔‘‘  (۴)

تُوْبُوْااِلَی اللّٰہ!		اَسْتَغْفِرُاللّٰہ

صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!			صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمدبن محمد غزالی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں: دو زبانوں والا وہ شخص ہے جوایسے دو آدمیوں کے درمیان جاتاہے جو باہم دشمن ہیں اور وہ (منافق) ہر ایک سے اس کے موافق بات کرتاہے اور ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ یہ دو باہم عداوت رکھنے والوں کے پاس جائے اور ایسا نہ کرے۔ وہ اس صفت سے متصف ہوتاہے اور یہ حقیقی نفاق ہے۔
(الزواجر عن اقتراف الکبائر، الکبیرۃ الثالثۃ والخمسون بعد المائتین، ج۲، ص۴۸، دار المعرفۃ) 
2…مسند ابی یعلی، مسند انس بن مالک، الحدیث:۲۷۶۳-۲۷۶۴، ج۳، ص۱۰۔
3…کنزالعمال، کتاب المواعظ، الباب الثانی فی الترہیبات، الحدیث:۴۳۸۵۶، ج۱۶، ص۲۰۔
4…کنزالعمال، کتاب المواعظ، الباب الثانی فی الترہیبات، الحدیث:۴۴۰۷۷، ج۱۶، ص۴۶۔