سنو! اپنے دین کو ان دونوں سے مزین وآراستہ کرو۔‘‘ (۱)
جانوروں پر آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی رحمت:
(1863)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حضرتِ سیِّدُنا عمران بن حصین، حضرتِ سیِّدُنا جابر بن عبداللّٰہ اور حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے روایت کرتے ہیں کہ حضور پرنور، شافعِ یوم النشور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چار جانوروں کے قتل سے منع فرمایا: (۱)…چیونٹی (۲)…شہد کی مکھی (۳)…ہدہد اور (۴)…ممولہ (ایک عجیب الخلقت پرندہ) نیز تھوک سے اسم جلالت مٹانے سے بھی منع فرمایا (۲)۔ (۳)
آگ کی دو زبانیں:
(1864)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حضرتِ سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اراشاد فرمایا: ’’جس کی دنیا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۳۴۷، ج۱۸، ص۱۵۹۔
2…مفسرشہیر،حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃالمناجیح ، جلد5، صفحہ680 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: کیونکہ یہ جانور حرام بھی ہیں اور بے ضرر بھی۔ ان کے قتل میں کوئی فائدہ بھی نہیں اور بلا فائدہ جانور کو قتل کرنا ممنوع ہے۔ شہد کی مکھی بڑی مبارک ہے کہ اس کے منہ سے شہد اور موم ملتا ہے۔ بے ضرر ہے اس کی پرورش کرنی چاہئے۔ اسے مارنا ممنوع ہے۔ نملہ سے مراد بڑی چیونٹی ہے۔ جس کے پاؤں بڑے بڑے ہوتے ہیں۔ وہ بالکل ہی بے ضرر ہوتی ہے۔ یوں بھی ہدہد حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کا خاص خادم ہے۔ اس کا کھانا حرام ہے۔ گوشت بدبودار بھی ہوتا ہے۔ صرر (ممولہ) ایک عجیب الخلقت پرندہ ہے اس کاسر بڑا ہوتا ہے۔ چڑیوں کا شکار کرتا ہے۔ اس کے پر بڑے ہوتے ہیں آدھے سفید، آدھے کالے، اہل عرب اس کو منحوس جانتے ہیں۔ اس کی آواز سے یہ فال لیتے ہیں جیسے ہمارے ملک کے جہلا اُلو کو منحوس سمجھتے ہیں۔ چھوٹی چیونٹی کو ذر بڑی چیونٹی کو نمل کہتے ہیں۔ یہاں مرقات نے حضرت ابن عباس (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) سے روایت کی کہ ہدہد کے لئے زمین صاف شیشہ کی مثل ہے۔ وہ زمین کی تہ میں پانی دیکھ لیتاہے۔ اس لئے حضرت سلیمان (عَلَیْہِ السَّلَام) نے ایک سفر میں ہدہد کو یوں فرمایا: مَا لِیَ لَاۤ اَرَی الْہُدْہُدَ ۫ۖ (پ۱۹، النمل:۲۰، ترجمۂ کنزالایمان: مجھے کیا ہوا کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھتا۔) کیونکہ آپ کو وضو کی ضرورت تھی ۔ ہدہد زمین کی تہ کا پانی بتاتا۔ جنات کنواں تیار کرتے آپ وضو فرماتے۔ یہاں ہی مرقات نے اس دعوت کا ذکر فرمایا جو ہدہد نے حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کی تھی۔
3…سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی قتل الذرہ، الحدیث:۵۲۶۷، ج۴، ص۴۶۸، دون قولہ وان یمحی…الخ۔