Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
252 - 603
 کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے فرائض میں سے ایک یا دو یا تین یاچار یا پانچ کلمے سیکھے اور دو سروں کو سکھائے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ’’جب سے میں نے یہ بات سنی ہے اس وقت سے میںکوئی حدیث نہیں بھولا۔‘‘  (۱)
(1861)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔکریم ، رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگو ں سے جنگ کرو ں یہاں تک کہ وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ (یعنی تو حید و رسالت) کا اقرار کرلیں اور نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں جب یہ کرلیں گے تومجھ سے اپنے خون و مال بچا لیں گے سوا اسلامی حق کے ان کاحساب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمہ ہے(۲)۔‘‘  (۳)
سخاوت اور حسن اخلاق سے دین کو مزین کرو!
(1862)…حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حضرتِ سیِّدُنا عمران بن حصین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ سرکارمدینہ ، راحت ِقلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اس دین کو اپنے لئے خالص کرلیا ہے اور تمہارے دین کے لئے صرف سخاوت واچھے اخلاق ہی زیبا ہیں۔ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینہ دمشق، الرقم:۸۸۹۵، ابوھریرۃ، الحدیث:۱۳۶۱۱، ج۶۷، ص۳۲۹۔
2…مفسرشہیر،حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃالمناجیح ، جلد1، صفحہ33 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: چونکہ اس وقت تک ر وزہ جہاد وغیرہ کے احکام نہ آئے تھے اسی لیے ان کا ذکر نہ ہوا اگر کوئی نماز یا روزہ کا انکار کرے تو کافر ہے اس پر کفار کا سا جہاد ہوگا۔ تارکین نماز و زکوٰۃ کی گو شمالی کرنی ہوگی۔ چونکہ اس زمانہ مبارک میں اسلام میں نئے فرقے نہ بنے تھے کلمہ نماز وزکوٰۃ ایمان کی علامت تھی اس لیے فرمایا کہ جو یہ تین کام کرے اس کا جان و مال محفوظ ہے اب بہت مرتد فرقے کلمہ، نماز، زکوٰۃ پر کاربند ہیں مگر مرتد ہیں ان پر ارتداد کا جہاد ہوگا جیسے (امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا) صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ نے مسیلمہ کذَّاب کے معتقدین پر جہاد کیا اب بھی قادیانیوں وغیرہ مرتدین کا یہ ہی حکم ہے۔ اگر اسلام لا کر قتل زنا یا ڈکیتی وغیرہ کریں تو قتل کے مستحق ہوں گے کہ یہ اسلام کا حق ہے یہ قتل کفر نہ ہوگا۔ اگر کوئی زبانی کلمہ ظاہری نماز وزکوٰۃ ادا کرے تو ہم اس پر جہاد نہ کریں گے اگر منافقت سے یہ کام کرتا ہے تو رب اسے سزا دے گا۔
3…صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الامربقتال…الخ، الحدیث:۳۶۔(۲۲)، ص۳۳۔