کر دیا ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! عدل واحسان اطاعت ِ الٰہی والے تمام امور کو شامل ہے اور فحش، منکر اور بغی نافرمانی والے تمام امور کو شامل ہے۔‘‘ (۱)
(1857)…حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن عبدالرحمن عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو حجاج کی موت کی خبر دی تو آپ نے سجدۂ شکر ادا کیااور بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! حجاج تیرے ہی تحت قدرت تھا تو نے ہی اسے موت دی، لہٰذا اس کے طریقہ کار کو بھی ختم فرما دے اور ہمیں اس کے طور طریقے اور برے اعمال کی پیروی سے محفو ظ رکھ، پھر حجاج کے خلاف دعا فرمائی۔ (۲)
(1858)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالواحد بن زید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو فرماتے سناکہ ’’اگر عبادت گزاروں کو معلوم ہو جائے کہ بروزِقیامت وہ دیدارِ الٰہی سے محروم رہیں گے تو ضرور (اس صدمے سے) ہلاک ہوجائیں۔‘‘ (۳)
سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی
سے مروی اَحادیث
یٰسٓشریف کی فضیلت:
(1859)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضو ر انور، شافع روزِمحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا: ’’جس نے رضائے الٰہی کے لئے رات میں یٰسٓ شریف کی تلاوت کی اس کی مغفرت کردی جائے گی۔‘‘ (۴)
علم دین سیکھنے سکھانے کی فضیلت:
(1860)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان، باب فی الایمان یرسل اللّٰہ صلوات اللّٰہ علیہم، الحدیث:۱۴۰، ج۱، ص۱۶۱۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۱۲۱۷، الحجاج بن یوسف، ج۱۲، ص۱۹۶۔
3…شرح حدیث لبیک لابن رجب حنبلی، اول الکتاب، ص۸۹۔
4…مسندابی داود الطیالسی، الجزء العاشر، الحسن البصری عن ابی ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ، الحدیث:۲۴۶۷، ص۳۲۳۔