مانوس کر نے والی کوئی نہیں پاتا۔ (لوگوں کی) زبانیں تو سرسبز وشاداب ہیں مگر دل قحط زدہ (بنجر زمین کی طرح) ہیں۔‘‘ (۱)
دو خصلتیں:
(1854)…حضرتِ سیِّدُناہشام رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’بندے کی دو خصلتیں ایسی ہیں کہ اگر وہ درست ہو جائیں تو باقی تمام خصلتیں درست ہو جائیں: (۱)…ظالموں کی طرف میلان اور (۲)…نعمتوں میں سرکشی۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کافرمان عظمت نشان ہے: وَلَا تَرْکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ (پ۱۲، ہود:۱۱۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آگ چھوئے گی۔
ایک مقام پر ارشاد فرماتا ہے: وَ لَاتَطْغَوْا فِیۡہِ فَیَحِلَّ عَلَیۡکُمْ غَضَبِیۡ ۚ (پ۱۶، طٰہٰ:۸۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اوراس میں زیادتی نہ کرو کہ تم پر میرا غضب اترے۔
(1855)…حضرتِ سیِّدُنا ابوموسی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضر ت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو فرماتے سنا کہ ’’بندۂ مومن سے گناہ سرزد ہوجائے تو وہ ہمیشہ اس پر پشیمان ونادم رہتا ہے۔‘‘ (۲)
(1856)…حضرتِ سیِّدُنا جویریہ بن بشیر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو یہ آیت ِ مبارکہ تلاوت کرتے سنا: اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُ بِالْعَدْلِ وَالۡاِحْسَانِ وَ اِیۡتَآیِٔ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ وَ الْبَغْیِ ۚ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۹۰﴾ (پ۱۴، النحل:۹۰)
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک اللّٰہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی اور رشتہ داروں کے دینے کااور منع فرماتا ہے بے حیائی اوربری بات اور سرکشی سے تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ تم دھیان کرو۔
کچھ دیر توقف کرنے کے بعد فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اس ایک ہی آیت میں سارے کے سارے خیر وشر کو جمع
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہدلابن مبارک، باب الاخلاص والنیۃ، الحدیث:۱۹۷، ص۶۵۔
2…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۵۲۷، اخبارالحسن بن ابی الحسن، ص۲۷۸۔