Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
249 - 603
	اے ابن آدم! فیصلے کی دو قسمیں ہیں تو جس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا وہ عادل حکمران ہے اور جس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم کے علاوہ فیصلہ کیا وہ جاہلیت کا فیصلہ ہے ۔ بے شک لوگو ں کی تین قسمیں ہیں: (۱)…مومن (۲)…کا فر اور (۳)…منافق۔ مومن کے ساتھ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  اطاعت گزاروں جیسا معاملہ فرماتا ہے جبکہ کافر کو ذلیل ورسوا کرتا ہے جیساکہ تم مشاہدہ کر چکے ہو اور منافق ہمارے ساتھ مجلسوں، راستوں اور بازاروں میں بھی ہوگا ہم اس سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! منافقین کو معرفت ِ الٰہی حاصل نہیں ہوئی ان کے برے اعمال اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان نہیں رکھتے ۔ بے شک مومن ہمیشہ خوف کی حالت میں صبح وشام کرتا ہے اگرچہ نیک ہی ہو اور اسے یہی زیبا ہے کیونکہ اسے دو چیزوں کا خوف ہوتاہے: ایک ماضی میں کئے گئے گناہ کا کہ جس کے بارے میں اسے نہیں معلوم کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے ساتھ کیا معاملہ فرمائے گا۔ دوسرا اس موت کا جس سے عنقریب واسطہ پڑے گااور وہ نہیں جانتا کہ موت کے وقت اسے کن کن ہلاکت خیزیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مؤمنین زمین میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے گواہ ہیں جو بنی آدم کے اعمال کو قرآنِ مجید پر پیش کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ، جس کا عمل کتابُ اللّٰہ کے موافق ہو اس پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہیں اور جس کا عمل اس کے مخالف ہو تووہ جان لیتے ہیں کہ یہ عمل کتابُ اللّٰہ کے مخالف ہے اور مؤمنین مخلوق میں سے راہ راست سے بھٹکنے والوں کی گمراہی کو بھی قرآن پاک کے ذریعے جان لیتے ہیں۔  (۱)
(1852)…حضرتِ سیِّدُنا اشعث رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ ’’ہم جب بھی حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے ملاقات کرکے واپس لوٹتے تو ہمارے نزدیک دنیاکی کوئی قدر وقیمت نہ ہوتی۔‘‘  (۲)
مگردل قحط زدہ ہیں:
(1853)…حضرتِ سیِّدُنا ابوزہیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’میں بہت سے لوگوں کو دیکھتا ہوں لیکن ان میں عقل نام کی کوئی چیز نہیں پاتا۔ مختلف آواز یں سنتا ہوں لیکن
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ المنافق، باب ما روی فی صفۃ المنافق، الحدیث:۵۱، ص۶۱، باختصار۔
2…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، کلام الحسن البصری، الحدیث:۱۱۷، ج۸، ص۲۶۷۔