Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
248 - 603
جانتا ہے کہ رزق تک پہنچنے میں اس کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور چنا گیا ہے۔‘‘  (۱)
مومن کی شان:
(1850)…حضرتِ سیِّدُنا یحییٰ بن مختار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’بے شک مومن اپنے نفس کا خود نگہبان ہے، وہ رضائے الٰہی کی خاطر اپنے نفس کی نگہبانی کرتا ہے، لہٰذا جو بغیر محاسبے کے اپنے نفس کی نگہبانی کرے گابروزِ قیامت اس کے حساب وکتاب میں تخفیف کی جائے گی۔ مومن کو اچانک کوئی چیز ملتی ہے تو وہ متعجب ہو کر کہتا ہے: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! مجھے تیری بہت خواہش تھی اور مجھے تیری حاجت بھی تھی لیکن بخدا! تجھے حاصل کرنا میرے لئے ناممکن تھا کیونکہ میرے اور تیرے درمیان دوریاں حائل تھیں اور جب کوئی چیز اس سے ضائع ہوجاتی ہے تو وہ اپنے نفس کی طرف رجوع کرتا ہے اور کہتا ہے: میں نے اس (کے حصول) کا ارادہ نہیں کیاتھا مجھے اس سے کیا سروکار؟ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میرے پاس اس کا کوئی عذر نہیں ہے اور اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے چاہا تو میں دوبارہ اس کی طرف کبھی نہیں لوٹوں گا۔ بے شک مسلمان قرآن مجید پر بھروسا کرتے ہیں کیونکہ قرآن مجید ان کے اور ان کی ہلاکت کے درمیان حائل ہوتا ہے۔ مومن دنیا میں اس قیدی کی طرح ہوتا ہے جو رہائی کے حصول میں کوشاں رہتا ہے اور جب تک وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ملاقات نہ کرلے اس وقت تک کسی چیز سے بے خوف نہیں ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہر معاملے میں اس کا مواخذہ کیا جائے گا۔‘‘  (۲)
مومن، کافر اور منافق:
(1851)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعبیدہ ناجی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: اے ابن آدم! جب لوگو ں کو بھلائی کر تے دیکھو تو بھلائی میں ان سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو اور جب کسی برائی میں مبتلا دیکھو تو ان سے اور ان کی اختیار کردہ برائی سے بچو کیونکہ میں نے ایسے لوگوں کا زمانہ پایا ہے جنہوں نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی تو انہیں ذلت ورسوائی اور ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، کلام الحسن البصری، الحدیث:۱۱، ج۸، ص۲۵۵۔
2…الزہدلابن مبارک، باب الہرب من الخطایا، الحدیث:۳۰۷، ص۱۰۳۔