Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
246 - 603
(1842)…حضرتِ سیِّدُنا ابوموسیٰ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: ہم حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے پاس بیٹھے تھے کہ ان کے بیٹے نے حاضر ہو کر تیر کے جلد ٹوٹ جانے کی شکایت کی تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا: ’’(آخرت کا معاملہ) اس سے بھی زیادہ جلد پیش آنے والا ہے۔‘‘  (۱)
صبر و سخاوت:
(1843)…حضرتِ سیِّدُنا عمران بن خالد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَاحِد سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے پوچھا: ’’اے ابوسعید! ایمان کیا ہے؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’صبر اور سخاوت۔‘‘ اس نے عرض کی: ’’صبر اور سخاوت کیا ہے؟‘‘ فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی سے باز رہنا صبر اور پابندی کے ساتھ فرائض پر عمل پیرا ہونا سخاوت ہے۔‘‘  (۲)
(1844)…حضرتِ سیِّدُنا غالب قطان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’افعال کو اقوال پر فضیلت دینا عزت و بزرگی کا باعث ہے جبکہ اقوال کو افعال پر فضیلت دینا نقصان و خسارے کا باعث ہے۔‘‘  (۳)
دخول جہنم کا ایک سبب:
(1845)…حضرتِ سیِّدُنا صالح مری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری اور حضرتِ سیِّدُنا فرقد سَبَخِی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا کو ایک ولیمہ میں شرکت کی دعوت دی گئی، جب ان کے سامنے انواع واقسام کے کھانے رکھے گئے تو حضرتِ سیِّدُنا فرقد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کھانا نہ کھایا حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’اے فرقد! کیا ہوا کھانا کیوں نہیں کھاتے؟ کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ تمہیں اس فاخرانہ لباس کی وجہ سے اپنے بھائیوں پر فضیلت حاصل ہے۔ (سنو!) مجھے خبر پہنچی ہے کہ جہنم میں اکثر وہ لوگ ہوں گے جو فاخرانہ لباس زیب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، قصر الامل، الحدیث:۴۰، ج۳، ص۳۱۱۔
2…المجالسۃ وجواہر العلم، الجزء الثامن، الحدیث:۱۱۵۵، ج۱، ص۴۴۱۔
	تہذیب الکمال، الرقم:۱۲۱۶، باب الحاء، الحسن بن ابی الحسن، ج۶، ص۱۲۱۔
3…شعب الایمان، باب فی حفظ اللسان، الحدیث:۵۰۵۰، ج۴، ص۲۶۸۔