Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
245 - 603
بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو فرماتے سنا کہ ’’دو دوست یعنی درہم ودینار کتنے برے ہیں۔ جب تک یہ تم سے جدانہ ہو جائیں اس وقت تک تمہیں نفع نہیں پہنچائیں گے۔‘‘  (۱)
عنقریب یہ تیری قبر ہوگی:
(1838)…حضرتِ سیِّدُنا ابوداؤد مبارک بن فضالہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو فرماتے سنا کہ ’’اے ابن آدم! زمین کو اپنے قدموں تلے روند کیونکہ عنقریب یہ تیری قبر ہوگی۔ جب سے تو پیدا ہوا ہے اس وقت سے مسلسل تیری عمر کم ہورہی ہے۔‘‘  (۲)
حکم الٰہی کی مخالفت نہ کرو!
(1839)…حضرتِ سیِّدُنا ابوقیس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’(اے لوگو!) کسی بھی حکم میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی مخالفت نہ کرو کیونکہ حکم الٰہی کی مخالفت ان گھروں کے تعمیر کرنے میں ہے جن کی ویرانی کا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ فیصلہ فرما چکا ہے۔‘‘
بیٹے کی اصلاح:
(1840)…حضرتِ سیِّدُنا ضمرہ بن شوذب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں کہ حجاج کے مرنے کے بعد جب سلیمان گورنر بنا تو اس نے لوگوں میں جاگیریں تقسیم کیں، لوگ جوش وخروش سے جاگیریں لینے لگے۔ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے صاحبزادے نے عرض کی: ’’لوگوں کی طرح اگر ہم بھی کچھ جائیداد وغیرہ لے لیں تو کتنا اچھا ہو۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’خاموش! مجھے تو یہ بھی پسند نہیں کہ میرے دوپہلوؤں کے درمیان مٹی کی ایک ٹوکری رکھی ہوئی ہو۔‘‘
(1841)…حضرتِ سیِّدُنا حمید بن رومان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ناپسند فرماتا ہے کہ اپنے بندے کو دنیا میں سے کچھ عطا فرمائے مگریہ کہ (اسے دنیامیں سے جو چیز بھی عطا فرمائے گا وہ) کسی مصیبت وآزمایش کے عوض ہوگی خواہ آزمایش فوراً پیش آئے یا کچھ دیر بعد۔‘‘
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سیر اعلام النبلاء، الرقم:۵۹۰، الحسن البصری، ج۵، ص۴۶۶۔
2…الزہدلابن مبارک، باب التواضع، الحدیث:۸۵۲، ص۲۹۲۔