سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کو فرماتے سنا کہ ’’جس نے بھی حضرت سیِّدُنا محمد مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت کی یقیناً اس نے آپ کو صبح وشام دیکھا ہے، لہٰذا اس نے نہ تو اینٹ پر اینٹ رکھی اور نہ ہی بانس پر بانس رکھا (یعنی عمارت تعمیر نہیں کی)۔ اس کے لئے عَلمِ جہادبلند کیا گیا تو وہ فوراً تیار ہوگیا۔ اس چیز (یعنی دنیا) سے جس پر تم مرمٹنے کے لئے تیار ہو جلدی جلدی نجات حاصل کرو کیونکہ تمہارے نیک لوگ جلد دنیا سے رخصت ہوگئے اور تمہارے آقا و مولیٰ حضرت سیِّدُنا محمد مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی (بظاہر) دنیا سے رخصت ہوگئے اور تم ہو کہ دن بدن ذلت ورسوائی کے گڑھے میں گرتے جارہے ہو۔ پس ہوشیار ہوجاو ٔاور خوب غور وفکرسے کام لو۔‘‘ (۱)
(1835)…حضرتِ سیِّدُنا صالح بن رستم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کوفرماتے سنا کہ ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص پر رحم فرمائے جسے اہل ثروت حضرات کی شان وشوکت دھوکے میں مبتلا نہ کرے! اے ابن آدم! بے شک تو نے اکیلے ہی موت کاشکار ہونا، اکیلے ہی قبر میں جانا، اکیلے ہی قبر سے اٹھنا اور اکیلے ہی حساب وکتا ب کا سامنا کرنا ہے۔ اے ابن آدم! تو ہی مطلوب ومقصود ہے۔‘‘ (۲)
اب گزارہ مشکل ہے:
(1836)…حضرتِ سیِّدُنا ابوجمیع سالم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا: ’’میں نے ایسے لوگوں کازمانہ پایا ہے جو لوگوں کونیکی کا حکم دیتے اور خود بھی اس پر عمل کرتے، لوگوں کو برائی سے روکتے اورخود بھی اس سے باز رہتے تھے۔ جبکہ اب ہم ایسے لوگوں کے درمیان ہیں جو لوگوں کو تونیکی کا حکم دیتے ہیں لیکن خود اس پر عمل نہیںکرتے، اوروں کو تو برائی سے روکتے ہیں لیکن خود اس میں مبتلا ہیں، لہٰذا ایسے لوگوں کے ساتھ کیسے گزارہ ہو سکتا ہے۔‘‘
برے دوست:
(1837)…حضرتِ سیِّدُنا حزم بن ابی حزم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم بیان کرتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا حسن
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان، باب فی الزہد وقصرالامل، الحدیث:۱۰۷۲۵، ج۷، ص۳۹۵، باختصار۔
المجالسۃ وجواہر العلم، الجزء الخامس، الحدیث:۶۱۶، ج۱، ص۲۶۱، بتغیر۔
2…الزہدللامام احمد بن حنبل، الحدیث:۱۵۳۹، اخبارالحسن بن ابی الحسن، ص۲۸۰۔