Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
243 - 603
جسے وہ سنتے ہیں کہ کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو بے شک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں۔ پس جس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت اور اس کی پیدا کی ہوئی خوراک لی تو اس نے اسے رچتا پچتا کھایا اور جس نے نعمت الٰہی کو پیٹ، شرمگاہ اور جسم کے لئے لہو ولعب کا ذریعہ بنایا تو بروزِ قیامت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس نعمت کو اس کے لئے وبال بنادے گا۔  (۱)
اپنے دل کا علاج کرو!
(1832)…حضرتِ سیِّدُنا خالد ابوبکر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص خوبصورت چادر اوڑھے اتراتا ہوا حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے قریب سے گزرا آپ نے اسے بلاکر فرمایا: ’’اے ابن آدم! تو اپنی جوانی، حسن وجمال اور کپڑوں پر اترا رہا ہے تجھے تو یوں سمجھنا چاہئے کہ گویا قبر نے تیرے بدن کو چھپا رکھا ہے اور تونے اپنے عمل (کی جزا) کو پالیا ہے، لہٰذا جاؤ اپنے دل کا علاج کرو کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بندو ں سے صرف دلوں کی اصلاح چاہتا ہے۔‘‘  (۲)
تین نصیحتیں:
(1833)…حضرتِ سیِّدُنا ابان بن محبر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے وصال کا وقت قریب آیا تو کچھ شاگردوں نے خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی: ’’حضور ہمیں کچھ کلمات بتائیے جن سے ہم نفع حاصل کرسکیں۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’میں تمہیں تین کلمات کی نصیحت کرتا ہوں پھر تم یہاں سے چلے جانا اور مجھے تنہا چھوڑ دینا: (۱)…جس چیز سے تمہیں باز رہنے کا حکم دیا گیا ہے سب سے زیادہ اسے چھوڑنے والے بن جاؤ (۲)…جس چیز کے بجالانے کا حکم دیا گیا ہے سب سے زیادہ اس پر عمل کرنے والے بن جاؤ اور(۳)…جان لو جو قدم تم اٹھاتے ہو اس کی دو قسمیں ہیں ایک تمہارے لئے نفع مند ہے اور دوسرا نقصان دہ، لہٰذا خوب اچھی طرح غور کر لو کہ تم صبح وشام کہا ں گزارتے ہو۔‘‘  (۳)
(1834)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعبداللّٰہ خالد بن شوذب جشمی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرالطبری، پ۸، سورۃ الاعراف، تحت الآیۃ:۳۲، الحدیث:۱۴۵۴۳، ج۵، ص۴۷۳، باختصار۔
2…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، کتاب التواضع والخمول، الحدیث:۲۴۰، ج۳، ص۵۸۱۔
3…الثبات عند الممات، الحسن البصری، ص۱۳۶۔